وفاقی وزارت صحت نے سعودی حکومت کی جانب سے گردن توڑ بخار کی ویکسین لازمی قرار دئیے جانے فیصلے کے بعد ویکسین کی پہلی کھیپ درآمد کرلی ۔
وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق عمرہ زائرین کیلئے گردن توڑ بخار ویکسین کی 37 ہزار 500 خوراک درآمد کی گئی ہیں اور گردن توڑ بخار کی یہ ویکسین فائزر پاکستان نے درآمد کی ہیں ۔ مذکورہ کمپنی گردن توڑ بخار کی ویکسین چاروں صوبوں کو فراہم کرے گی۔
ذرائع کے مطابق گردن توڑ بخار ویکسین کی 16 ہزار ڈوز پنجاب کو فراہم کی جائیں گی۔ جبکہ دیگر صوبوں کو حسب ضرورت فراہم کی جائے گی ۔ پنجاب کو گردن توڑ بخار ویکسین کی ڈوز 7 فروری تک موصول ہوجائے گی ۔
وزارت صحت کے ذرائع نے مزید بتایا کہ گردن توڑ بخار ویکسین کی قلت کے خاتمے کیلئے ہنگامی اقدامات جاری ہیں، جبکہ گردن توڑ بخار ویکسین کی صورتحال پر فارما کمپنیز اور صوبائی حکومتوں سے رابطہ ہے۔
وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا تھا کہ گردن توڑ بخار ویکسین کے بارے میں صورتحال چند روز میں معمول پر آ جائے گی ۔ پاکستان میں گردن توڑ بخار ویکسین فائزر اور سنوفی کمپنیاں درآمد کرتی ہیں۔
وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق ماضی میں ملک میں گردن توڑ بخار ویکسین کی کبھی بھی قلت نہیں رہی، ملک میں گردن توڑ بخار ویکسین کی ماہانہ کھپت ایک ہزار ڈوز تک ہے تاہم سعودی حکومت کی جانب سے عمرہ زائرین کیلئے لازم قرار دینے پر گردن توڑ بخار ویکسین کی قلت پیدا ہوئی تھی۔
وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گردن توڑ بخار ویکسین کی قلت پر بلیک میں مہنگے داموں سیل ہو رہی تھی، گردن توڑ بخار ویکسین کی مد میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا ۔
سعودی حکومت کی جانب سے عمرہ زائرین کیلئے سفر سے 10 روز قبل گردن توڑ بخار ویکسین لگوانا لازم قرار دیا گیا ہے ۔