ازبکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان آج تاشقند میں ایک انتہائی معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت ازبکستان کے سابق صدر اسلام کریموف کی بڑی بیٹی گلنارا کریمووا کے سوئٹزر لینڈ میں ضبط شدہ اثاثے واپس کیے جائیں گے۔ وزارت انصاف کے مطابق، تقریباً 182 ملین ڈالر کی واپسی سے متعلق معاہدے پر وزیر انصاف اکبر توشکولوف اور سوئٹزرلینڈ کے سفیر کانسٹنٹن اوبولینسکی نے دستخط کیے۔
وزارت سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق “یہ غیر قانونی رقم، جو کچھ ازبک شہریوں نے حاصل کی تھی، 2012 میں سوئس اٹارنی جنرل کے دفتر نے گلنارا کریمووا کے خلاف ایک مجرمانہ کیس کے تحت مکمل طور پر ضبط کر لی تھی۔ ” یہ رقم اقوام متحدہ کے تحت “ازبکستان وژن 2030 ملٹی لیٹرل ٹرسٹ فنڈ” کے ذریعے ازبکستان منتقل کی جائے گی۔
اس سے قبل ، 16اگست 2022 کو بھی برن میں دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت 131 ملین ڈالر ازبکستان کو واپس کیے جانے تھے۔ نئے معاہدے کے بعد واپس کیے جانے والے مجموعی اثاثے 313 ملین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
یہ فنڈز “ازبکستان وژن 2030” کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے، جن میں خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبے شامل ہیں۔
ازبکستان کے نائب وزیر انصاف مزراف اکراموف کے مطابق، گلنارا کریمووا اور ان کے زیر قیادت مجرمانہ گروہ کے اثاثے فرانس، امریکہ، لٹویا اور دیگر ممالک میں موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت 1.4 بلین ڈالر (تقریباً 15 کھرب سوم) کے قریب ہے۔ ان اثاثوں سے 1400 اسکولوں کی تعمیر ممکن ہو سکتی ہے۔ ازبکستان کے سابق صدر کی بیٹی گلنارا کریمووا کو 2015 میں 5سال کیلئےگھر میں نظربندی کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد 2019 ء میں انہیں جیل منتقل کر دیا گیا تھا ۔ مارچ 2020 ء میں انہیں مزید 13 سال 4 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، جس کی وجوہات سرکاری فنڈز کی خردبرد، ازبکستان کے مفادات کے خلاف معاہدے کرنے اور بھاری پیمانے پر غیر قانونی اثاثے حاصل کرنا بتائی گئی ہیں۔