اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر)
پاکستان میں ازبکستان کے سفیر، علی شیر تختئیوف نے کہا ہے کہ ازبکستان اور پاکستان دو اہم تزویراتی شراکت دار ہیں جو صدیوں پر محیط تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں۔ تاہم ہمارے ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارتی امکانات اور عوامی روابط اب بھی پوری طرح سے ترقی نہیں کر سکے، جس سے باہمی ترقی کی حقیقی صلاحیت محدود ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ازبکستان اور پاکستان کے درمیان زمینی، ریلوے اور فضائی روابط میں بہتری سے اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ ملے گا۔” آج ہمارے سامنے ایک اہم تزویراتی ہدف محفوظ، جدید اور مؤثر نقل و حمل اور لاجسٹک راہداریوں کی ترقی ہے، جو نہ صرف اقتصادی انضمام کو فروغ دے گی بلکہ بین الثقافتی مکالمے کو بھی تقویت بخشے گی اور دوطرفہ تعاون کو مضبوط کرے گی۔
سفیر نے کہا کہ ازبکستان اور پاکستان کے درمیان متعدد کلیدی بین الحکومتی معاہدے طے پا چکے ہیں، جن میں ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA)، ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ، اور دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے روڈ میپ شامل ہے۔
سال 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 404.5 ملین ڈالر رہا۔ ازبک سفیر نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں، خصوصاً ازبکستان کے لیے جنوبی ایشیا کا ایک قدرتی گیٹ وے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمندر تک رسائی اور جدید بندرگاہی انفراسٹرکچر کی بدولت پاکستان خطے کو بین الاقوامی تجارتی راستوں اور عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے ایک اہم مرکز فراہم کر سکتا ہے۔
اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ “وسطی ایشیا-پاکستان-آذربائیجان سفارتی مکالمہ 2025” سے خطاب کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششیں نہ صرف معیشتوں کے مسابقتی معیار کو بہتر بنائیں گی بلکہ سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی سازگار بنائیں گی اور پورے خطے کی پائیدار ترقی میں مددگار ثابت ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان نقل و حمل کے روابط کو وسعت دینے کے لیے سب سے زیادہ تزویراتی اہمیت کا حامل منصوبہ “ٹرانس افغان ریلوے کاریڈور” ہے، جو خطے میں تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو مزید فروغ دے گا۔