ازبک پارلیمنٹ سے تحفظ صارفین کا بل منظور

چیمبر پریس سروس کے مطابق 4 فروری کو ہونے والے اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ نے صارفین کے تحفظ سے متعلق ایک اہم بل منظور کیا ہے ، جسے سینٹ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

بل میں سامان کی تاخیر سے ڈیلیوری دینے والوں پر جرمانے کی  تجویز دی گئی تھی جسے 5 فروری کو پہلی ریڈنگ میں منظور کر لیا گیا ، کیا گیا تھا۔ نمائندوں کی تجاویز پر بل پر دوسری بار نظر ثانی کی گئی ۔

UzLiDePکے رکن پارلیمان بابور بیکمورودوف کا کہنا تھا کہ کاروباری مفادات کا تحفظ بھی انتہائی ضروری ہے ۔ تاہم صارفین کے مفادات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق، قانون سازی میں ایک خامی ہے کہ اگر صارف کوئی پراڈکٹ آرڈر کرتا ہے ، اور بیچنے والا اسے طے شدہ ٹائم لائن کے اندر فراہمی میں ناکام رہتا ہے تو اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اس خامی کو پر کرنے کیلئے  بل نے وقت کی ہر اضافی اکائی (منٹ ، گھنٹے اور دن ) کیلئے 0.5 فیصد جرمانہ تجویز کیا ہے ۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس کا تعلق ڈیلیوری کے طے شدہ اوقات سے ہے۔ مثال کے طور پربیچنے والا 100 دنوں کے اندر ڈیلیوری کا وعدہ کرتا ہے، لیکن سامان 101 ویں دن پہنچتا ہےتو صارف کو تاخیر کے ہر دن کے لیے 0.5فیصد جرمانہ وصول کرنے کا حق ہے۔ "اس سے سپلائرز کو ترغیب ملے گی کہ وہ صحیح طریقے سے منصوبہ بندی کر کے زیادہ درست طریقے سے ترسیل کے اوقات کی نشاندہی کریں گے ۔

بل کے مطابق جرمانہ 0.5 فیصد سے کم کی سطح پر مقرر کیا جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ ادائیگی سامان کی قیمت کے 100فیصد  تک ہو سکتی ہے جو وقت پر نہیں پہنچائی جاتی ہے۔ ذمہ داری کھانے کی ترسیل کی خدمات پر بھی لاگو ہوگی۔ ڈیلیوری ایک سروس ہے جو صارفین کے حقوق کے تحفظ کے قانون کے آرٹیکل 19 کے ذریعے ریگولیٹ ہوتی ہے۔ اگر بیچنے والا اور ڈیلیوری کرنے والا مختلف ہے، تو سامان کی دیر سے وصولی کی صورت میں، ڈیلیور کرنے والی پارٹی کو تاخیر کے لیے 1فیصد ادا کرنا ہوگا، اگر یہ اس کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اور اگر بیچنے والے کی غلطی ہے تو جرمانہ 0.5فیصد ہوگا۔

دوسری ریڈنگ میں ووٹنگ کے دوران، 144 ایم پیز نے بل کی حمایت کی، 1 نے ووٹ نہیں دیا۔ بعد ازاں اس دستاویز کو ارکان پارلیمنٹ نے تیسری ریڈنگ میں پاس کیا اور منظوری کے لیے سینیٹ کو بھیج دیا گیا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں