ازبک شہری قومی شناختی کارڈ کے زریعے قازقستان اور تاجکستان کا سفر کر سکیں گے

 صدر شوکت مرزائیوف نے قانون ساز چیمبر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، ازبکستان مستقبل میں صرف    قومی شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے قازقستان اور تاجکستان کے ساتھ سرحدیں عبور کرنے کے لیے ایک جامع طریقہ کار اپنائے گا۔  اس موقع پر انہوں نے حکومت کے اگلے پانچ سالوں کے لیے ترجیحی اہداف کے بارے میں بھی تفصیلی بات کی۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ، ملک کی جامع ترقی کیلئے موثر خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہونا، دوستوں اور شراکت داروں کی تعداد بڑھانا اور قریبی ہمسایوں کے ساتھ علاقائی تعاون کو بڑھانا نہایت اہم ہے، اس مقصد کے لیے صدر  مرزائیوف نے خارجہ پالیسی کے تصور کے نئے ورژن کو اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ،  وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا، علاقائی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانا  نئی خارجہ پالیسی کی ترجیحات ہوں گی۔ 2025 میں ازبکستان، وسطی ایشیائی پانچ (ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ترکمانستان) کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا،  جو  خارجہ پالیسی کے اس نئے راستے پر ایک اور اہم عملی قدم ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ، یکم ستمبر سے ازبک شہری آزادانہ طور پر ، بین الاقوامی پاسپورٹ کے بجائے، قومی  شناختی کارڈ کا استعمال کر تے ہوئے  کرغزستان کا دورہ کر سکیں گے، مستقبل میں قازقستان اور تاجکستان کے ساتھ بھی اسی طرح کا طریقہ کار متعارف کیا جائے گا۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ،  وسطی ایشیائی ریاستوں، دیگر اہم شراکت داروں، مستند بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ ساتھ مالیاتی اداروں کے ساتھ موثر اور نظامی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں