امریکی ویزہ کے خواہشمند غیر ملکی طلباء کے سوشل میڈیااکاونٹس کی جانچ پڑتال کیوں ہوگی؟

امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کے لیے ویزا حاصل کرنا مزید مشکل ہونے جا رہا ہے، کیونکہ امریکی حکومت نے ویزا درخواست گزاروں کی سخت جانچ پڑتال کا فیصلہ کر لیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ، مارکو روبیو نے تمام سفارتی مشنز کو ہدایت دی ہے کہ، وہ اسٹوڈنٹ ویزا اور دیگر اقسام کے ویزوں کے لیے درخواست دینے والے افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلی چھان بین کریں۔
مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ، اس اقدام کا بنیادی مقصد امریکا اور اسرائیل کے خلاف تنقیدی رائے رکھنے والے افراد کو ملک میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ نے 25 مارچ کو ایک تفصیلی مراسلے میں سفارتی حکام کو ہدایات جاری کیں، جن کے تحت ویزا درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے انہیں خاص طور پر اسکروٹنی میں رکھا جائے گا۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند دن قبل امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایسے غیر ملکی شہریوں کو ڈی پورٹ کرنے کی منظوری دی گئی تھی جو امریکی حکومت، معاشرتی اقدار، اداروں یا پالیسیوں کے خلاف تنقیدی موقف رکھتے ہوں۔ اسی طرح، انہوں نے اسرائیل کے خلاف تنقید کرنے والے غیر ملکی شہریوں، بشمول طلبہ، کے خلاف بھی سخت اقدامات کی منظوری دی تھی۔
امریکی وزیر خارجہ کے مراسلے کے مطابق، ویزا جانچ پڑتال کا عمل فوری طور پر نافذ کیا جائے گا، اور قونصلر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ، وہ ان مخصوص طلبہ اور دیگر افراد کے نام فراڈ روک تھام یونٹ کو بھیجیں، تاکہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔
یہ ‘فراڈ پریوینشن یونٹ’ امریکی سفارتخانوں میں کام کرتا ہے اور ویزا درخواست گزاروں کی مکمل اسکریننگ کے بعد انہیں کلیئر کرتا ہے۔
اسکریننگ کے دائرہ کار میں کون آئے گا؟
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ، وہ افراد جن کے بارے میں شبہ ہو کہ ان کے دہشت گردوں سے روابط ہیں یا وہ ان کے نظریات کے حامی ہیں، انہیں خاص طور پر چیک کیا جائے گا۔ اسی طرح، وہ طالبعلم یا فرد بھی اس جانچ پڑتال میں شامل ہوں گے جنہوں نے 7 اکتوبر 2023 سے 31 اگست 2024 کے درمیان اسٹوڈنٹ یا ایکسچینج ویزا حاصل کیا ہو یا جن کے ویزے کی معیاد اکتوبر 2023 میں ختم ہو چکی ہو۔
یہ مخصوص تاریخیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ، یہ پالیسی اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عالمی تنقید کے ردعمل میں بنائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ، 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل نے غزہ کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے اور احتجاج شروع ہوئے۔
مراسلے میں مذکور مخصوص تاریخوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ، اگر کوئی ویزا درخواست گزار سوشل میڈیا پر فلسطینی عوام کی حمایت میں پوسٹس کرتا رہا ہے، تو اس کی ویزا درخواست کو مسترد کیے جانے کا قوی امکان ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں