ٹرمپ کی تجارتی جنگ: اسٹاک انڈیکس اور تیل کی قیمتوں میں شدید مندی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محاذ آرائی میں شدت لانے کے بعد وال اسٹریٹ سمیت دنیا بھر کی مالیاتی مارکیٹوں کو زبردست دھچکا پہنچا۔ تاہم، وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی معیشت اس کشمکش میں بالآخر سرخرو ہوگی۔
ٹرمپ کے مختلف ممالک پر جوابی محصولات عائد کرنے کے اعلان کے بعد، امریکی اسٹاک مارکیٹ شدید گراوٹ کا شکار ہوئی۔ ڈاؤ جونز انڈیکس 3 فیصد سے زیادہ نیچے چلا گیا، جبکہ ایس اینڈ پی میں 4 فیصد اور ٹیکنالوجی سے بھرپور نیس ڈیک انڈیکس میں 5 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔
ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے نے نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی منڈیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ ایشیا اور یورپ کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی نمایاں مندی دیکھنے میں آئی۔ کئی عالمی رہنماؤں نے تجارتی مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا، مگر ساتھ ہی انتقامی محصولات عائد کرنے کی دھمکی بھی دے دی، جس نے سرمایہ کاروں کی بے چینی میں مزید اضافہ کر دیا۔
ٹرمپ نے درآمدی ٹیرف کا دائرہ تمام ممالک تک وسیع کر دیا، جس کے تحت 10 فیصد اضافی ڈیوٹی لاگو کی گئی۔ تاہم، بڑے تجارتی شراکت داروں بشمول چین اور یورپی یونین کی درآمدات پر اضافی سخت محصولات عائد کیے گئے۔
اس کے علاوہ، امریکہ میں درآمد کی جانے والی تمام غیر ملکی کاروں پر 25 فیصد کا نیا ٹیرف لگا دیا گیا، جس کے جواب میں کینیڈا نے فوری طور پر امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کر دیے۔
ان نئی پالیسیوں کے اثرات حقیقی معیشت میں بھی نظر آنے لگے، جس کے تحت جیپ، کرائسلر اور فیاٹ کی مالک کمپنی اسٹیلانٹس نے کینیڈا اور میکسیکو میں کچھ اسمبلی پلانٹس میں پیداوار روک دی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹاک مارکیٹ میں اتھل پتھل اور معیشت پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاک کی قیمتیں دوبارہ اوپر چلی جائیں گی۔ وہ فلوریڈا میں اپنے گالف ریزورٹ پر ویک اینڈ گزارنے روانہ ہوئے اور صحافیوں کے سوالات پر اصرار کیا کہ امریکی معیشت اس بحران سے نکل آئے گی۔
دوسری جانب، امریکی سیاسی حلقوں میں بھی اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ریپبلکن سینیٹر مچ میک کونل نے ٹرمپ کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے انہیں ‘خراب پالیسی’ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اپنی صنعت اور مزدوروں کے طویل مدتی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے، نہ کہ ان کے خلاف۔
تجارتی جنگ کے اثرات صرف اسٹاک مارکیٹ تک محدود نہیں رہے بلکہ توانائی کی عالمی منڈی میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ تیل کی قیمتیں اس وقت مزید نیچے گر گئیں جب اوپیک پلس گروپ نے مئی میں پیداوار میں کمی ختم کرنے کا اعلان کیا۔
اس فیصلے کے بعد، برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 6.72 فیصد کی کمی واقع ہوئی اور یہ 69.91 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ اسی طرح، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ 7.15 فیصد کمی کے ساتھ 66.58 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
مارکیٹ کے اس بحران پر پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلین کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ آج صبح مارکیٹ میں خوف و ہراس کی فضا ہے اور سرمایہ کار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیاں نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی نظام کو بھی شدید متاثر کر رہی ہیں۔ جہاں عالمی رہنما اور معاشی ماہرین اس فیصلے کے طویل مدتی اثرات پر غور کر رہے ہیں، وہیں مارکیٹ میں پیدا ہونے والا عدم استحکام سرمایہ کاروں کے لیے مسلسل بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں