نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے محکمہ انصاف میں تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یہ معلومات امریکی روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں دی ہیں۔
ٹرمپ 2020 کے انتخابات میں صدر جو بائیڈن سے شکست کھا چکے ہیں اور انہوں نے ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے، اگرچہ ان کے دعووں کے حق میں کوئی قابلِ ذکر ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔
عدالتی چیلنجز اور دوبارہ گنتی کے نتائج
ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں نے 2020 انتخابات کے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے 60 سے زائد مقدمات دائر کیے، تاہم زیادہ تر کیسز شواہد کی کمی کے باعث مسترد کر دیے گئے۔ اہم ریاستوں، جیسے جارجیا اور پنسلوانیا، میں دوبارہ گنتی اور آڈٹ کے باوجود بائیڈن کی جیت کی تصدیق ہوئی۔
2023 میں، ٹرمپ کو 2020 کے انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کی کوششوں سے متعلق وفاقی الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ خصوصی وکیل جیک سمتھ کی قیادت میں تحقیقات کے نتیجے میں ٹرمپ پر فردِ جرم عائد کی گئی۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ٹرمپ نے اپنی عبوری ٹیم کے ذریعے عندیہ دیا ہے کہ وہ جیک سمتھ اور ان کے ساتھ کام کرنے والی پوری ٹیم کو برطرف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کی 2024 میں کامیابی اور مستقبل کی حکمتِ عملی
2024 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد، ٹرمپ اب نہ صرف اپنے دعوؤں کو مزید تقویت دینا چاہتے ہیں بلکہ اپنی سابقہ شکست کے بارے میں تحقیقات کے لیے ٹھوس اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ ان کا یہ اقدام امریکی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔