چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کی ملکیت والی مشہور سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک نے امریکہ میں ایک نیا مشترکہ ادارہ قائم کرنے کا معاہدہ مکمل کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ کرنا اور ممکنہ امریکی پابندی سے بچنا ہے۔
یہ معاہدہ اس کمپنی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، کیونکہ 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے خدشات کے باعث ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی کوششیں کی تھیں۔ اب نئے معاہدے کے تحت امریکی اور عالمی سرمایہ کار اس ادارے کے 80 فیصد سے زائد حصے کے مالک ہوں گے، جبکہ بائیٹ ڈانس 19.9 فیصد کے ساتھ شریک رہے گی۔
اس شراکت داری میں بڑی امریکی کمپنیوں جیسے اوریکل، سِلوَر لیک اور دیگر سرمایہ کار شامل ہیں۔ نئے ادارے کو ٹک ٹاک کے امریکی صارفین کا ڈیٹا، مواد کی سفارشات کا الگورتھم اور سائبر سیکیورٹی کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ اس کا مقصد امریکی صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت اور ایپ کی فعالیت میں بہتری لانا ہے۔
ٹک ٹاک کے نئے امریکی ادارے کے قیام کے بعد امریکی حکومت اور بائیٹ ڈانس دونوں نے اس معاہدے کی منظوری دی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس شراکت داری کے ذریعے امریکی صارفین کا ڈیٹا محفوظ رہے گا اور ایپ کی خدمات بہتر انداز میں فراہم کی جائیں گی۔
معاہدے کی تفصیلات کے مطابق، نئے ادارے کے تین اہم سرمایہ کار اوریکل، سِلوَر لیک اور ابو ظہبی کی سرمایہ کاری فرم MGX ہوں گے، جبکہ ٹک ٹاک کے عالمی سی ای او شاؤ چیو اس بورڈ میں شامل رہیں گے۔ اس نئے ادارے کے قیام سے امریکی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے ساتھ ایپ کے کاروباری نظام میں شفافیت بھی آئے گی