انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور دی ہنڈرڈ کی تمام آٹھ ٹیموں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یہ ٹورنامنٹ سب کے لیے کھلا اور مساوی مواقع فراہم کرنے والا مقابلہ ہے۔ یہ وضاحت ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بھارتی مالکان کی ملکیت رکھنے والی چند فرنچائزز ممکنہ طور پر پاکستانی کھلاڑیوں کو آئندہ نیلامی میں نظر انداز کر سکتی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز مارچ میں ہونے والی نیلامی کے دوران پاکستانی کرکٹرز پر غور نہیں کریں گی۔ دی گارڈین کے مطابق، ذرائع کا کہنا ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے اتوار کے روز تمام آٹھ ٹیموں کو ای میل کے ذریعے متنبہ کیا کہ اگر کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک، بالخصوص قومیت کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے کے شواہد ملے تو کارروائی کی جائے گی۔
آئندہ ماہ ہونے والی نیلامی کے لیے مجموعی طور پر 67 پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں 63 مرد اور چار خواتین کھلاڑی شامل ہیں۔ منگل کی شام جاری کیے گئے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور تمام آٹھ ٹیموں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دی ہنڈرڈ کا قیام نئے شائقین تک رسائی، کرکٹ کے فروغ اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ ہر فرد، خواہ اس کا تعلق کسی بھی نسل، جنس، مذہب یا قومیت سے ہو، خود کو اس کھیل کا حصہ محسوس کرے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی کھلاڑی کو اس کی قومیت کی بنیاد پر خارج نہیں کیا جا سکتا اور انتخاب صرف کارکردگی، دستیابی اور ٹیم کی ضرورت کی بنیاد پر ہوگا۔
انگلینڈکے کپتان ہیری بروک نے بھی گزشتہ ہفتے ٹیموں پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کو موقع دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان طویل عرصے سے ایک مضبوط کرکٹ پسند قوم رہا ہے اور نیلامی میں شامل درجنوں پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑی نہ صرف باصلاحیت ہیں بلکہ وہ ٹورنامنٹ میں شائقین کی دلچسپی بھی بڑھاتے ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے جاری سیاسی کشیدگی کا اثر کرکٹ پر بھی پڑتا رہا ہے۔ 2009 سے انڈین پریمیئر لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت عملا بند ہے۔ اس کے علاوہ آئی پی ایل کے کئی مالکان نے جنوبی افریقہ کی ایس اے 20 اور متحدہ عرب امارات کی آئی ایل ٹی 20 جیسی غیر ملکی لیگز میں بھی فرنچائزز خرید رکھی ہیں، جس کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کے مواقع مزید محدود ہوئے ہیں۔
گزشتہ سال دی ہنڈرڈ کے ڈرافٹ میں کوئی پاکستانی کھلاڑی منتخب نہیں ہوا تھا، اگرچہ بعد میں محمد عامر اور عماد وسیم بطور متبادل شامل ہوئے۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کا مصروف بین الاقوامی شیڈول تھا، جس کے باعث نمایاں کھلاڑی مکمل ٹورنامنٹ کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ رواں سال بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے، کیونکہ ٹورنامنٹ کے دوران پاکستان ویسٹ انڈیز میں دو ٹیسٹ میچ کھیلے گا اور دی ہنڈرڈ کے فائنل کے تین روز بعد انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ شروع ہوگا۔
دی ہنڈرڈ کا شیڈول 21 جولائی سے 16 اگست تک جاری رہے گا۔ بورڈ اور ٹیموں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے بہترین کھلاڑی اس مقابلے میں شریک ہوں اور اسے شمولیت اور برابری کی مثال بنایا جائے۔