انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے خبردار کیا ہے کہ، تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ تیزی سے ڈیڈ لیول کے قریب پہنچ رہا ہے، جس کے باعث پنجاب اور سندھ کو رواں فصل سیزن کے آخری مرحلے میں 35 فیصد تک پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس قلت سے گندم کی فصل کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ارسا کے مطابق، دونوں آبی ذخائر میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے۔تربیلا ڈیم میں صرف 73 ہزار ایکڑ فٹ پانی باقی ہے، اور اس کی سطح ڈیڈ لیول (1400 فٹ) سے محض 9 فٹ اوپر ہے۔منگلا ڈیم میں 2 لاکھ 35 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہے، جو ڈیڈ لیول (1060 فٹ) سے صرف 28 فٹ اوپر ہے۔پانی کی آمد کم اور اخراج زیادہ ہونے کے باعث دونوں ڈیم چند دنوں میں ڈیڈ لیول پر پہنچ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، پانی کی اس قلت سے گندم کی بوائی اور پیداوار دونوں متاثر ہوں گی۔ گندم کی فصل آخری پانی دینے کے نازک مرحلے میں ہے اور مارچ کے آخر تک کٹائی کے لیے تیار ہو جائے گی۔ اگر پانی کی قلت برقرار رہی، تو گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی آسکتی ہے، جو ملک کے غذائی تحفظ کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
خوش قسمتی سے، حالیہ بارشوں نے انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم (IBIS) میں کچھ بہتری پیدا کی ہے، جس سے صوبوں کو ان کے طے شدہ پانی کے کوٹے کے قریب سپلائی جاری رکھی جا رہی ہے۔ تاہم، اب بھی پنجاب کو 20 فیصد اور سندھ کو 14 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے، جو کہ ابتدائی تخمینے 16 فیصد سے زیادہ ہے۔
ارسا نے تمام صوبوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ کسی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔ اتھارٹی کو امید ہے کہ، مزید بارشیں پانی کے بحران کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ، ملک کو آبی ذخائر کے بہتر انتظام اور پانی کے مؤثر استعمال کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ مستقبل میں زراعت اور غذائی تحفظ مزید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔