جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کے خلاف غداری کے الزامات پر تحقیقات کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ کارروائی صدر کی جانب سے مارشل لاء نافذ کرنے کی ناکام کوشش کے بعد سامنے آئی ہے، جسے پارلیمنٹ نے چند گھنٹوں میں مسترد کر دیا تھا۔
جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق، ایک خصوصی پولیس ٹیم دو درخواستوں کی تحقیقات کر رہی ہے، جن میں سے ایک درخواست چھوٹی اپوزیشن جماعت ری بلڈنگ کوریا پارٹی نے دی ہے جبکہ دوسری 59 سماجی کارکنوں کے ایک گروپ کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔ درخواستوں میں سابق وزیر دفاع کم یونگ ہون، آرمی چیف آف اسٹاف جنرل پارک آن سو، اور وزیر داخلہ لی سانگ من پر بھی غداری اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
منگل کی رات صدر یون نے اچانک مارشل لاء نافذ کرنے کا اعلان کیا، تاہم چند گھنٹوں بعد عوامی اور پارلیمانی ردعمل کے باعث اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔ اس اقدام کے بعد، حزب اختلاف کی 6 جماعتوں، جن کی قیادت ڈیموکریٹک پارٹی کر رہی ہے، نے صدر اور سابق وزیر دفاع کے خلاف مواخذے کی تحریک دائر کر دی۔
سابق وزیر دفاع کم، جو اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں، کو ملک چھوڑنے سے روک دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، صدر یون کے خلاف استغاثہ جبکہ اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف کرپشن کے چارجز بھی عدالت میں جمع کروائے گئے ہیں۔
صدر کے مواخذے کے لیے ووٹنگ ہفتہ کو متوقع ہے، جس سے ملک کی سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔