جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لیے عالمی معاہدے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہو گئیں۔ تقریباً 200 ممالک کے نمائندے ایک ہفتے کی طویل بات چیت کے باوجود کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ڈائریکٹر انگر اینڈرسن کے مطابق، مختلف معاملات پر شدید اختلافات نے پیش رفت کو روک دیا۔
پلاسٹک پیداوار پر پابندی: حمایت اور مخالفت کی تقسیم
پانامہ کی قیادت میں 100 سے زائد ممالک نے پلاسٹک کی پیداوار پر پابندی کے حق میں دلائل دیے۔ ان کا موقف ہے کہ پیداوار میں کمی کے بغیر آلودگی پر قابو ممکن نہیں۔ یورپی یونین کے خصوصی ایلچی انتھونی اگوتھا نے اس تناظر میں کہا کہ اگر نل کھلا ہے تو فرش کو صاف کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
تاہم، سعودی عرب، ایران، اور روس جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک اس کی سخت مخالفت کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ معاہدے کا مقصد پلاسٹک کے فضلے کا انتظام ہونا چاہیے، نہ کہ اس کی پیداوار کا خاتمہ۔
خطرناک کیمیکلز پر پابندی: نئی تجویز یا غیر ضروری قدم؟
روانڈا اور ناروے کی قیادت میں ہائی ایمبیشن کولیشن نے پلاسٹک میں موجود خطرناک کیمیکلز پر پابندی کا مطالبہ کیا، جبکہ فجی کے نمائندے نے اس کو انتہائی ضروری قرار دیا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، پلاسٹک میں 3,200 سے زائد خطرناک کیمیکلز موجود ہیں جو خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
دوسری جانب، بعض ممالک کا مؤقف ہے کہ پہلے سے موجود بین الاقوامی معاہدے اور قوانین کافی ہیں۔
مالی امداد پر اختلاف: ترقی پذیر اور امیر ممالک کے مابین تناؤ
ترقی پذیر ممالک نے اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مالی معاونت کا مطالبہ کیا، لیکن امیر ممالک نے اس پر کوئی اتفاق نہیں کیا۔ چین کے نمائندے کا کہنا تھا کہ معاہدے کو تمام ممالک کے اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جانا چاہیے۔ سعودی عرب نے مذاکرات کے مسودے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ پیراگراف ہماری مسلسل مخالفت کے باوجود شامل کیے گئے۔
2050 تک پلاسٹک کی پیداوار میں تین گنا اضافہ متوقع
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پلاسٹک کی پیداوار اور فضلے کو کنٹرول نہ کیا گیا تو 2050 تک اس کی مقدار تین گنا بڑھ سکتی ہے۔ پاناما کے نمائندے جوآن کارلوس مونٹیری گومیز نے کہا، “ہر روز کی تاخیر انسانیت کے خلاف ہے، بحران انتظار نہیں کرے گا۔”
ان مذاکرات کے تعطل کے بعد اگلا اجلاس 2025 کے وسط میں متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ مکمل ہو گیا تو یہ پیرس معاہدے کے بعد ماحولیاتی تحفظ کے لیے سب سے اہم قدم ہو سکتا ہے۔