افغان حکومت کے سرکردہ رہنما سراج الدین حقانی کے مستعفی ہونے کی خبریں، حقیقت کیا ہے؟

گزشتہ روز افغان وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی طویل وقفے کے بعد خوست کی ایک مسجد میں بعد از نماز جمعہ اس وقت منظر عام پر آئے جب بڑی تعداد میں افراد ان کا خیر مقدم کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں انہیں عوام کے درمیان گلے ملتے اور مصافحے کرتے دیکھا گیا۔
سراج الدین حقانی افغان طالبان کی صفوں میں ایک سرکردہ رہنماء اور حقانی نیٹ ورک کے سابق سربراہ جلال الدین حقانی کے صاحبزادے ہیں۔اس وقت ان کے مستعفی ہونے کی خبریں گردش کررہی ہیں۔ پاکستان کے چند میڈیا اداروں نے بھی اس بابت خبریں شائع کی ہیں اور دعوی کیا ہے کہ انہوں نےسپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوند کو اپنا استعفی ارسال کردیا ہے، جو منظور بھی کرلیا گیا ہے۔ تاہم ، افغان حکومت نے سرکاری سطح بھی اس خبر کی کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
تاشقند اردو نے ترجمان امارت اسلامیہ ذبیح اللہ مجاہد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ۔ ان کی جانب سے جواب موصول ہوا کہ یہ مسئلہ ابھی پوری طرح واضح نہیں ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کا جواب کسی مسئلے کی جانب اشارے کو تو ظاہر کرتا ہے لیکن وہ اس بابت پوری طرح اس وقت بات نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری جانب پاکستان میں افغان سفارتخانے میں موجود ذرائع نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ‘ہم اس پر موقف دینے کے مجاز نہیں، ایسی کوئی بات ہوگی تو ذبیح اللہ مجاہد اس بارے میں معلومات فراہم کردیں گے”۔
سراج الدین حقانی کے میڈیا ٹیم کے ایک ممبر ڈاکٹر حیدر نے ایک بیان میں اس خبر کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے جبکہ بعض ذرائع کے مطابق سراج الدین حقانی کے خاندان نے بھی اس میں کسی حقیقت کا اشارہ نہیں دیا۔ استعفی سے متعلق یہ خبر رات گئے افغان عالمی میڈیا آؤٹ لٹ افغان انٹرنیشنل پر شائع ہوئی۔

رواں سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سراج الدین حقانی کو 23 جنوری سے 3 فروری تک سعودی عرب سفر کرنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم، اس کے بعد وہ کل پہلی دفعہ افغانستان میں منظر عام پر آئے۔ مبینہ طور پر وہ متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے جہاں انہوں نے یو اے ای حکام سے ملاقاتیں بھی کی۔
گزشتہ کچھ عرصے سے افغان طالبان کے درمیان اختلاف کی خبریں گرم ہیں۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے صف کے افغان طالبان رہنما امارت اسلامیہ کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوند کی پالیسیوں کی وجہ سے بطور احتجاج ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
کچھ لوگ اس اختلاف کو سنگین قرار دے رہے ہیں ۔ تاہم، ترجمان امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر کہا ہے کہ ہماری صفوں میں اختلاف پائے جاتے ہیں۔ ہر کسی کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے اور اسی سے مسائل کو دیکھتا ہے۔ لیکن یہ کسی سنگین نتائج کی علامت بالکل نہیں ہے۔
نائب وزیر اعظم عبدالسلام حنفی، حقانی گروپ کے سربراہ اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، نائب وزیر خارجہ شیر عباس ستانکزئی اورنائب وزیر اعظم برائے معاشی امور ملا عبد الغنی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ قندہار گروپ کے فیصلوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ سراج الدین حقانی، شیر عباس ستانکزئی اور ملا عبدالغنی برادر کے بارے میں یہ تک کہا گیا کہ وہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، اور ابھی تک واپس نہیں لوٹے ہیں۔
ملا عبدالغنی برادر کے حوالے سے اڑنے والی یہ افواہیں درست نہیں تھی کیونکہ وہ اس وقت افغانستان میں ہی موجود تھے اور مختلف منصوبوں کا افتتاح کر رہے تھے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ مرکزی قیادت یا سپریم لیڈر کے ساتھ ان طالبان رہنماؤں کا اختلاف پالیسیوں میں سختی اور خواتین کی تعلیم پر پابندی سے جڑا ہوا ہے۔ اس اختلاف کا اظہار جگہ جگہ ان رہنماؤں کی جانب سے کیا بھی جاچکا ہے۔

فروری 2023 میں وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے خوست میں ایک اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسی پالیسیوں کو ترک کیا جائے جو حکومت اور عوام کے درمیان خلیج کا سبب بن رہی ہیں، اس طرح کے طرز عمل سے مخالفین کو اسلام کو بدنام کرنے کا موقع ملتا ہے۔
بظاہر یہ اشارہ سپریم لیڈر ہبت اللہ اخونزادہ کی طرف تھا جنہوں نے خواتین پر تعلیم سمیت ان کے ملازمت کرنے پر بھی پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
ترجمان امارت اسلامیہ ذبیح اللہ مجاہد نے اس بیان اگلے روز جواب بھی دیا تھا۔ کابل میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ “اسلامی اقدار ہمیں پابند کرتی ہیں کہ ہم عوامی اجتماعات میں اپنے امیر، کسی وزیر یا حکومتی افسر پر تنقید یا انہیں بدنام نہ کریں۔‘‘
” آپ ان سے براہِ راست رابطہ کریں اور اپنی تنقید ذاتی طور پر ان تک پہنچائیں تاکہ اسے کوئی سن نہ لے۔”
دوسری جانب شیر عباس ستانکزئی بھی مرکزی قیادت کی تعلیمی پالیسیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ان کی ایک آڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘رہنما کی پیروی اس حد تک نہیں کرنی چاہیے کہ اسے نبوت کا درجہ حاصل ہوجائے’۔
شیر عباس ستانکزئی بھی جنوری سے اب تک متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ علاج بتائی ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ ان کاخاندان بھی یو اے ای میں مقیم ہے اور وہ کابل پر امارت اسلامیہ کے کنٹرول سے پہلے بھی دبئی آتے جاتے تھے۔
ان طالبان رہنماؤں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نرم پالیسی کے حامی ہیں اور دنیا کے ساتھ طے شدہ حدود کے اندر رہتے ہوئے چلنے کو تیار ہیں، لیکن قندہار کی مرکزی قیادت سخت گیر اسلامی نظام کے نفاذ کو ترجیح دیتے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں