یمن میں سعودی اتحاد کی فضائی کارروائی، متحدہ عرب امارات سے آنے والے جہازوں سے اتارے گئے ہتھیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سعودی سربراہی میں قائم اتحاد نے یمن میں ایک فضائی حملے کے دوران ایسے ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے جو مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے آنے والے جہازوں کے ذریعے اتاری جا رہی تھیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کی بندرگاہ مکلا کو بیرونی فوجی امداد فراہم کی جا رہی تھی، جس کے خلاف محدود فضائی کارروائی کی گئی۔

سعودی میڈیا کے مطابق، اتحاد کا مؤقف ہے کہ متحدہ عرب امارات کے فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے دو جہاز سنیچر اور اتوار کو بغیر اجازت مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے، انہوں نے اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا اور بڑی مقدار میں ہتھیار اور کامبیٹ گاڑیاں اتاریں، جن کا مقصد مبینہ طور پر سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کی حمایت تھا۔ سعودی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل سعودی اتحاد نے یمن کے جنوب میں موجود علیحدگی پسند گروہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ ملک کے مشرقی صوبے حضرموت کی جانب پیش قدمی روک دے۔ رواں ماہ کے آغاز میں جنوبی یمن میں علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کے باعث متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز آمنے سامنے آ گئی تھیں۔

اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق، یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کی جانب سے حضرموت اور المہرا میں شہریوں کے تحفظ کی درخواست پر منگل کی صبح محدود فضائی کارروائی کی گئی، جس میں اتارے گئے ہتھیاروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ علیحدگی پسند گروہ ایس ٹی سی ابتدا میں حوثیوں کے خلاف قائم سعودی اتحاد کا حصہ تھا، تاہم بعد ازاں اس نے یمن کے جنوب میں خودمختاری کے حصول کی راہ اختیار کی۔ 2022 کے بعد سے حوثیوں کے کنٹرول سے باہر جنوبی علاقوں میں ایس ٹی سی اور سعودی حمایت یافتہ اتحاد کے درمیان طاقت کی تقسیم جاری ہے۔

ایس ٹی سی اس وقت یمن کے جنوبی حصے کے بڑے علاقوں پر قابض ہے جن میں اسٹریٹجک لحاظ سے اہم صوبہ حضرموت بھی شامل ہے، جو سعودی عرب کی سرحد سے متصل ہے اور جس کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی روابط بھی ہیں۔ دوسری جانب حوثی ملک کے شمالی علاقوں پر قابض ہیں، جن میں دارالحکومت صنعا بھی شامل ہے، جہاں سے انہوں نے 2014 میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کو بے دخل کیا تھا۔

سعودی اتحاد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کی جانب سے کسی یمنی گروہ کو فوجی امداد فراہم کرنے کی کوششوں کو روکنے کا عمل جاری رکھے گا۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تحمل اور مسلسل سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار حل کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔

دوسری جانب سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایس ٹی سی کے جنگجوؤں کو چاہیے کہ وہ دو علاقائی صوبوں کا کنٹرول پرامن طریقے سے حکومت کے حوالے کر دیں۔ تاہم ایس ٹی سی نے جمعے کے روز جاری بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے باوجود پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں