نیل آرمسٹرانگ کے تاریخی خلائی مشن کی نایاب تصاویر 60 برس بعد منظرِ عام پر

امریکہ کے معروف خلا باز نیل آرمسٹرانگ کے ایک اہم اور خطرناک خلائی مشن کی نایاب تصاویر تقریباً 60 برس بعد منظرِ عام پر آئی ہیں۔ یہ تصاویر اوہائیو میں قائم آرمسٹرانگ ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کو عطیہ کی گئی ہیں، جہاں اب انہیں عوام کے لیے پیش کیا جائے گا۔

یہ تصاویر 1966 میں ہونے والے جیمنی 8 مشن کے بعد کی ہیں، جب نیل آرمسٹرانگ اور ان کے ساتھی خلا باز ڈیوڈ اسکاٹ ایک جان لیوا صورتحال سے بچ کر بحفاظت زمین پر واپس آئے تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس مشن کا ایک بڑا مقصد خلا میں دو خلائی جہازوں کو آپس میں جوڑنے کا تجربہ کرنا تھا، جسے انہوں نے کامیابی سے مکمل بھی کیا۔ تاہم اس کے فوراً بعد دونوں جہاز اچانک بے قابو ہو کر تیزی سے گھومنے لگے، جس سے خلا بازوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔

صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے نیل آرمسٹرانگ نے فوری اور نہایت اہم فیصلہ کیا اور خلائی جہاز کے کنٹرول سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے اس کی گردش کو روک دیا۔ اس عمل میں واپسی کے لیے محفوظ رکھا گیا اہم ایندھن استعمال ہو گیا، جس کے باعث مشن کو حفاظتی بنیادوں پر وقت سے پہلے ختم کرنا پڑا۔

دونوں خلا باز لانچ کے تقریباً 10 گھنٹے بعد جاپان کے قریب سمندر میں اترے، جہاں امریکی بحریہ کے جہاز نے انہیں بحفاظت نکالا اور بعد ازاں جاپان کے ایک فضائی اڈے منتقل کیا گیا۔

یہ نایاب تصاویر فوٹوگرافر رون میک کیونی نے لی تھیں، جو اس وقت ریسکیو آپریشن کا حصہ تھے۔ چونکہ یہ لینڈنگ غیر متوقع تھی، اس لیے بہت کم میڈیا نمائندے وہاں موجود تھے، جس کی وجہ سے ایسی تصاویر بہت کم دستیاب ہیں۔

تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خلا باز بحری جہاز کے ڈیک پر کھڑے مسکرا رہے ہیں اور اہلکاروں کو ہاتھ ہلا کر جواب دے رہے ہیں، جبکہ ایک تصویر میں خلائی کیپسول کو جہاز پر منتقل کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

تاریخ دانوں کے مطابق اسی مشن میں نیل آرمسٹرانگ کی حاضر دماغی اور قائدانہ صلاحیت نے انہیں بعد میں اپالو 11 مشن کا کمانڈر منتخب کیے جانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے تحت وہ چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں