افغانستان بمقابلہ آسٹریلیا میچ؛تیز بارش کی وجہ سے میچ روگ دیا گیا

چیمپئنز ٹرافی 2025 کے گروپ ’بی‘ کے ایک انتہائی اہم میچ میں افغانستان نے آسٹریلیا کو جیت کے لیے 274 رنز کا ہدف دیا۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس مقابلے میں افغانستان نے صدیق اللہ اتل اور عظمت اللہ عمرزئی کی شاندار نصف سنچریوں کی بدولت 273 رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے 13 اوورز میں 109 رنز بنا لیے تھے کہ، اچانک تیز بارش کی وجہ سے میچ روک دیا گیا۔
افغانستان کی بیٹنگ کا آغاز کچھ خاص نہیں تھا اور محض 3 رنز کے مجموعے پر رحمت اللہ گرباز پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد افغان بیٹرز نے کچھ سنبھل کر بیٹنگ کی، لیکن وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں۔ صدیق اللہ اتل نے 85 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور کپتان حشمت اللہ شاہدی کے ساتھ مل کر ٹیم کو بہتر پوزیشن میں لے جانے کی کوشش کی۔ تاہم، 176 کے مجموعے پر پانچویں وکٹ گرنے کے بعد افغانستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وکٹیں گرنے کے باوجود عظمت اللہ عمرزئی نے جارحانہ انداز اپنایا اور 67 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، جس میں پانچ شاندار چھکے بھی شامل تھے۔
آسٹریلیا کی جانب سے بین ڈوارشوز سب سے کامیاب باؤلر رہے، جنہوں نے 9 اوورز میں 47 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اسپینسر جانسن اور ایڈم زامپا نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ گلین میکسویل اور نیتھن ایلس کے حصے میں ایک، ایک وکٹ آئی۔
ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی بلے بازوں نے تیز رفتار آغاز کیا۔ 13 اوورز کے کھیل میں وہ 109 رنز بنانے میں کامیاب رہے اور صرف ایک وکٹ کا نقصان ہوا تھا کہ، بارش شروع ہو گئی۔ اس وقت تک آسٹریلیا ایک مضبوط پوزیشن میں تھا، لیکن اب بارش کے بعد میچ کا نتیجہ ڈک ورتھ-لوئس سسٹم کے تحت نکالے جانے کا امکان ہے۔
یہ میچ افغانستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ شکست کی صورت میں وہ سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا۔ دوسری جانب، اگر آسٹریلیا یہ میچ جیت جاتا ہے تو وہ سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ افغانستان نے دو روز قبل انگلینڈ کو 8 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کیا تھا، جبکہ آسٹریلیا بھی اپنے پہلے میچ میں انگلینڈ کو ہرا چکا ہے۔
اب تمام نظریں موسم پر ہیں کہ، کیا بارش رکنے کے بعد میچ دوبارہ شروع ہو سکے گا یا نہیں۔ اگر میچ مکمل نہ ہوا تو ڈک ورتھ-لوئس سسٹم کے تحت نتیجہ نکالا جائے گا، جو اس اہم مقابلے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں