کرغزستان رواں ماہ 27 دسمبر کو چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے منصوبے پر باضابطہ کام شروع کرے گا، جس کا اعلان صدر، صدیر جپاروف نے 20 دسمبر کو تیسرے عوامی کرولتائی کے دوران کیا۔
صدر جپاروف نے اس منصوبے کو ‘مشرق اور مغرب کو جوڑنے والا اسٹریٹجک پل’ قرار دیا اور کہا کہ، یہ تجارت، سیاحت، اور صنعت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم اقدام ہوگا۔
کرغزستان کی کابینہ اور چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے کمپنی کے درمیان 15 دسمبر کو سرمایہ کاری کے ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس میں ریلوے کی ڈیزائننگ، فنانسنگ، آپریشن اور دیکھ بھال کے منصوبے شامل ہیں۔ اس تقریب میں چین، کرغزستان، اور ازبکستان کے نمائندے شریک ہوئے۔
اس منصوبے کو ‘صدی کا منصوبہ’ کہا جا رہا ہے، جس کی تعمیر اکتوبر 2024 میں شروع ہو گئی اور اسے مکمل ہونے میں تقریبا چھ سال لگیں گے۔
اس ریلوے ٹریک کی لمبائی 486 کلومیٹر ہوگی جس میں سے 312 کلومیٹر کرغزستان سے گزرے گا۔
کرغزستان میں 18 اسٹیشن، 81 پل، اور 41 سرنگیں تعمیر کی جائیں گی، جن کی لمبائی 120 کلومیٹر ہوگی۔
ریلوے میں دو مختلف گیجز ہوں گے، چین سے مکمل تک 1435 ملی میٹر کا اسٹینڈرڈ گیج اور مکمل سے جلال آباد تک 1520 ملی میٹر کا گیج ہوگا۔
2035 تک، یہ ریلوے سالانہ 5 ملین ٹن سامان لے جانے کی کیپیسٹی رکھتا ہے جس میں سے نصف سے زیادہ ٹرانزٹ کارگو ہوگا۔
یہ ریلوے ٹریک چین کے کاشغر سے ازبکستان کے اندیجان تک جائے گا، جس دوران یہ کرغزستان کے طوروگارت، مکمل، اور جلال آباد سے گزرے گا۔
یہ منصوبہ وسطی ایشیا کی روس اور قزاقستان پر انحصار کم کرے گا، ترکی، یورپ، اور خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ تجارتی راستے کھولے گا اور کرغزستان کو بین الاقوامی لاجسٹکس میں اہم مقام دے گا۔
اس منصوبے پر مجموعی طور پر 4.7 بلین ڈالر کی لاگت آئے گی، چین 51% شیئرز کا مالک ہوگا، جبکہ کرغزستان اور ازبکستان 24.5% شیئرز کے مالک ہوں گے۔
اس منصوبے میں چین 1.18 بلین ڈالر، کرغزستان 700 ملین ڈالر، ازبکستان 573 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے جبکہ 2.35 بلین ڈالر چینی نان-کمرشل قرض کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔
چینی فریق منصوبے کے چینی حصے کی تعمیر کرے گا اور کرغزستان کے حصے میں تکنیکی اور مالی مدد فراہم کرے گا۔ ازبکستان 10 کلومیٹر کا رابطہ تعمیر کرے گا تاکہ، منصوبے سے منسلک ہو سکے۔
متعلقہ حکام کے مطابق یہ ریلوے خطے میں معاشی انضمام کو بہتر بنائے گی، عالمی منڈیوں کے ساتھ رابطہ مضبوط کرے گی اور تینوں شریک ممالک کے لیے اقتصادی ترقی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگی۔