چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے منصوبے کی افتتاحی تقریب کا آغاز

کرغز صدر کی پریس سروس کے مطابق، آج کرغزستان کے صدر صدیر جپاروف نے جلال آباد ریجن میں چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے منصوبے کے آغاز کی تقریب میں شرکت کی۔

منصوبے کا سنگ بنیاد جلال آباد شہر کے قریب توش-کوچو گاؤں میں رکھا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر جپاروف نے کہا کہ، چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے صرف ایک ٹرانسپورٹ کوریڈور نہیں، بلکہ ایک اہم اسٹریٹجک پل ہے، جو مشرق اور مغرب کے ممالک کو آپس میں جوڑے گا۔

صدر جپاروف نے اس بات پر زور دیا کہ، یہ ریلوے نہ صرف چین سے کرغزستان تک سامان پہنچائے گی، بلکہ وسطی ایشیا، مشرق وسطی، ترکیہ اور یورپی یونین کے ممالک تک بھی سامان پہنچائے گی۔ یہ منصوبہ بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دے گا، ٹرانسپورٹ روٹس کو متنوع بنائے گا اور وسطی ایشیا کو ایک بین الاقوامی ٹرانزٹ مرکز کے طور پر زیادہ مسابقتی بنائے گا۔

اس موقع پر چین کی نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے چیئرمین ژینگ شنجیے نے چینی صدر شی جن پنگ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ پیغام میں بتایا گیا کہ، یہ منصوبہ ایشیا اور یورپ کو جوڑنے والی ایک نئی زمینی راہداری بنے گا اور تینوں ممالک کے درمیان افراد اور تجارت کی آمد و رفت کو نمایاں طور پر فروغ دے گا۔ یہ منصوبہ صنعتوں کی ترقی، وسائل کے استعمال، تجارت کو آسان بنانے اور سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے میں مدد دے گا۔

ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا پیغام نائب وزیر اعظم جمشید خودجائیف نے پڑھ کر سنایا۔ پیغام میں بتایا گیا کہ، یہ واقعی ایک تاریخی منصوبہ ہے، جس پر ہمارے دوستانہ ممالک تقریبا 30 سال سے کام کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی اہمیت کا ایک نیا ٹرانسپورٹ روٹ تشکیل دیا جا رہا ہے، جو وسطی ایشیا کے علاقے کو چین کے ساتھ مختصر ترین زمینی راستے سے جوڑے گا۔

صدر مرزائیوف نے چینی صدر شی چن پنگ اور کرغز صدر صدیر جپاروف کا شکریہ ادا کیا اور منصوبے کے فروغ میں ان کی ذاتی کوششوں کو سراہا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ، کاشغر-تورگارت-مکمل-جلال آباد-اندیجان روٹ پر 20 اسٹیشنز، 42 پل اور 25 سرنگیں تعمیر کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ جدید ٹرانزٹ اور لاجسٹک انفراسٹرکچر، گودام اور ٹرمینلز بھی بنائے جائیں گے۔

اندازہ ہے کہ، اس ریلوے کی تکمیل سے علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کا حجم نمایاں طور پر بڑھے گا، ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے، اور وسطی ایشیا کے وسیع ٹرانزٹ امکانات کو اجاگر کیا جا سکے گا۔

نئی راہداری کے ذریعے سالانہ 15 ملین ٹن سامان کی نقل و حمل ممکن ہوگی۔ چین سے یورپی ممالک تک سامان کی ترسیل کا فاصلہ اور وقت کئی ہزار کلومیٹر اور تقریبا ایک ہفتہ کم ہو جائے گا۔ باقاعدہ مسافر ٹرانسپورٹ کا بھی اہتمام کیا جا سکے گا۔

مستقبل میں، اس ریلوے لائن اور ٹرانس-افغان کوریڈور کے کنکشن سے چین، وسطی اور جنوبی ایشیا کی نقل و حمل اور رابطے کو مزید مضبوط کیا جائے گا جس سے سینکڑوں نئے ادارے اور دسیوں ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

صدر مرزائیوف کے پیغام میں بتایا گیا کہ، یقینا یہ منصوبہ عظیم شاہراہ ریشم کی بحالی، ثقافتی اور انسانی تبادلے کی ترقی، اور ہمارے عوام کے مزید قرب کو فروغ دے گا۔

صدر کے پیغام میں مزید بتایا گیا کہ، ازبکستان اس ریلوے منصوبے کے تمام مراحل میں بھرپور شرکت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور دستیاب تمام تکنیکی اور علمی وسائل کو مکمل طور پر استعمال کرے گا، میں یقین رکھتا ہوں کہ، مشترکہ کوششوں سے یہ ٹرانسپورٹ کوریڈور ہماری مضبوط دوستی، شراکت داری اور ترقی کی علامت بنے گا۔

صدر مرزائیوف نے نئے سال کی عنقریب آمد پر انجینئرز، معماروں اور منصوبے پر کام کرنے والے تمام افراد کو بڑی کامیابی کی دعا دی۔

صدر شوکت مرزائیوف کے پیغام کے اختتامی کلمات میں بتایا گیا کہ، آج، آپ اپنے ہاتھوں سے ہمارے ممالک اور خطے کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں