ازبکستان کے صدر کا دورہ آذربائیجان – ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ازبکستان کیا کرنے جا رہا ہے؟

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کا اہم دورہ آذربائیجان مکمل ہوا۔ انہوں نے دورے کے دوران عالمی رہنماوں سے ملاقاتیں کیں اور ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مستقبل کا روڈ میپ واضح کیا۔

موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (COP29) کے عالمی سربراہی اجلاس سے خطاب کے دوران اہم تجاویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا میں غربت، خوراک، توانائی، اور پانی کے وسائل تک رسائی کے مسائل موسمیاتی تبدیلی سے مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسی واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ازبکستان سال 2030 تک 35 فیصد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کا ارادہ رکھتا ہے۔ ازبکستان جنگلات میں اضافے اور الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرنے جا رہا ہے۔

صدر شوکت مرزائیوف نے ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے دنیا کے بڑے شہروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے “ورلڈ کلائمیٹ کیپیٹلز الائنس” کے قیام اور اس کا پہلا فورم تاشقند میں منعقد کرنے کی بھی پیشکش کی۔

اس موقع پر انہوں نے یورپی کونسل کے صدر، فن لینڈ کے صدر، چیک ریپبلک کے وزیر اعظم اور یونان کے وزیر اعظم سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

کانفرنس کے موقع پر صدر شوکت مرزائیوف نے ازبکستان کے قومی پویلین کا دورہ بھی کیا۔

اس دوران ازبکستان، آذربائیجان، اور قازقستان کے درمیان “سبز توانائی کے فروغ اور منتقلی” کے لیے اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کی تقریب بھی ہوئی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں