پارلیمنٹ آف پاکستان کے مشترکہ اجلاس کے آغاز پر ہی اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی اور احتجاج کیا گیا، جس کے باعث صدر مملکت، آصف علی زرداری کو مائیکرو فون پہن کر خطاب کرنا پڑا۔ اسپیکر قومی اسمبلی، سردار ایاز صادق کی سربراہی میں اجلاس شروع ہوا، جہاں تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول ﷺ کے بعد صدر، آصف علی زرداری کو خطاب کی دعوت دی گئی، تاہم اپوزیشن ارکان نے شدید شور شرابہ شروع کر دیا۔ قائد حزب اختلاف ،عمر ایوب کی قیادت میں اپوزیشن ارکان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے، جس سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کا ماحول پیدا ہو گیا۔
صدر ،آصف علی زرداری نے خطاب کے دوران ملک کی معیشت میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ، پالیسی ریٹ میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافے کے باوجود ہمیں مزید بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔ حکومت نے ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے جو اقدامات کیے، ان کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، اسٹاک مارکیٹ تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مزید کوششیں کرنا ہوں گی، خاص طور پر ٹیکس کے نظام میں بہتری اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے اپنے خطاب میں سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ، وہ ذاتی اور سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ، ہمیں اپنی معیشت کی بحالی، جمہوریت کی مضبوطی اور قانون کی حکمرانی کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت درکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں حکمرانی کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹ کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور ایک مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
صدر زرداری نے زراعت کے شعبے کی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ، جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیج اور تحقیقی منصوبے متعارف کروائے بغیر زراعت کو ترقی نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے پانی کے مؤثر استعمال، ماہی گیری اور لائیو اسٹاک کے فروغ کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ، ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں اور ملکی معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
صدر پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ، پاکستان کو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی، برقی گاڑیوں اور ماحولیاتی تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے سندھ میں 2 ارب مینگرووز لگانے کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ، اس اقدام سے نہ صرف ماحولیاتی فوائد حاصل ہوئے، بلکہ حکومت کو بین الاقوامی کاربن کریڈٹ مارکیٹ سے بھی مالی فوائد ملے۔ انہوں نے دیگر صوبوں پر زور دیا کہ، وہ سندھ کے ماڈل کو اپنائیں اور کاربن کریڈٹ سے فائدہ اٹھائیں۔
دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے واضح کیا کہ، پاکستان دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ہماری سکیورٹی فورسز نے اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، اور قوم کو ان پر فخر ہے۔ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا ہے، اور ہم اپنی بہادر افواج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔
صدر آصف زرداری کے خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے اور احتجاج جاری رکھا، تاہم صدر مملکت نے اپنا خطاب مکمل کیا اور تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ۔ وہ قومی مفاد میں یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور پاکستان کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔
صدر کے خطاب کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔