وزیراعظم پاکستان، محمد شہباز شریف نے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت، کوئٹہ میں جعفر ایکسپریس حملے کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ، ٹرین پر حملے کے بعد سیکیورٹی اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ، مسافروں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، اور یہ آرمی چیف ،جنرل عاصم منیر، کور کمانڈر کوئٹہ اور دیگر اداروں کی انتھک محنت کی بدولت ممکن ہوا۔
انہوں نے کہا کہ، یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ میں ایک منفرد اور المناک سانحہ تھا، جہاں معصوم مسافر، بشمول فوجی جوان، عید منانے کے لیے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ سیکیورٹی اداروں کے کامیاب آپریشن کے نتیجے میں 339 یرغمالی مسافروں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ ،ہم نے ان دہشت گردوں سے تو جان چھڑا لی، لیکن پاکستان آئندہ کسی ایسے سانحے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ بلوچستان کی ترقی کے بغیر ملک کی خوشحالی ممکن نہیں، اور جب تک بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ختم نہیں ہوگی، امن کا قیام ممکن نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ،پاکستان میں ایک مخصوص ٹولہ انتشار پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اس واقعے کے بعد ایسی گفتگو کی گئی جسے دہرانا ممکن نہیں، اور جو لوگ ہماری افواج کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں، انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے ماضی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ،طالبان کو دوبارہ پاکستان میں خوش آمدید کہنے سے بڑا جرم کوئی نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ ماضی میں طالبان سے ہمدردی رکھتے تھے، وہی آج کے حالات کے ذمہ دار ہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ،اگر ہم نے دہشت گردی کو جڑ سے ختم نہ کیا تو ملک میں ترقی اور امن کے عمل کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ہمیں ماضی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا اور ایک جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے لیے دیے گئے اربوں روپے کے فنڈز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ،ہم نے ان صوبوں میں سیکیورٹی بہتری کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اب دیکھنا یہ ہوگا کہ، خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سیف سٹی پروجیکٹ کے لیے کتنی پیش رفت ہوئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ،دہشت گردی کے خلاف مکمل اتفاقِ رائے کا فقدان ہے، لیکن اب ہمیں تمام جماعتوں کو ایک پیج پر لانا ہوگا۔ اسی لیے ہم جلد ایک آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائیں گے، تاکہ قومی سلامتی کے معاملات پر اجتماعی حکمت عملی بنائی جا سکے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ،ہم دہشت گردوں کو کسی صورت پاکستان کے امن اور ترقی کے عمل کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ سیکیورٹی فورسز، عوام اور تمام ریاستی ادارے متحد ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ پوری طاقت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ،ہم معصوم شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو ہر محاذ پر شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، اور ہم ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔