پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی یورپ کے پروازوں پر عائد پابندی ختم ہوئی جِس کے بعد ائیر لائن کے یورپی ممالک کے لیے روٹ بحال ہو گئے۔ پی آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے ائیرلائن انتظامیہ اور وزارتِ ہوا بازی کو پابندی ختم کرنے کے باقاعدہ فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق 4 سال کی انتھک محنت کے بعد یہ اہم سنگِ میل عبور ہوا۔ قومی ائیر لائن ایاسا اور اس کے قوانین اور ضابطوں پر مکمل طور پر عمل کرتی رہے گی۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا تھا کہ یورپی کمیشن اور ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی کی پروازوں سے پابندی ہٹا لی ہے۔
پی آئی اے پر پابندی لگی کیوں تھی؟
جون 2020 میں اُس وقت کے وزیرِ ہوابازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا تھا کہ کمرشل پائلٹس کی ایک بڑی تعداد نے “مشکوک لائسنس “حاصل کر رکھے ہیں۔ یکم جولائی 2020 کو ایاسا نے پی آئی کے یورپ کے لیے فلائٹ آپریشنز کو عارضی طور پر 6 ماہ کے لیے معطل کر دیا تھا۔ یہ قومی ائیر لائن کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔
8 اپریل 2021 کو یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر عائد پابندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی تھی۔
پابندی کیسے ختم ہوئی؟
پی آئی کے ترجمان عبداللہ حفیظ کے مطابق ” چار سال سے سیفٹی اقدامات اٹھائے جا رہے تھے اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کا آڈٹ کیا۔ پی آئی اے اپنا آڈٹ کافی عرصہ پہلے ہی کلئیر کر چکا تھا تاہم سول ایوی ایشن پر جو خدشات تھے، انھیں ادارے نے گذشتہ ماہ دور کر دیا۔”
قومی ائیر لائن کے ترجمان کے مطابق پی آئی کو زیادہ خدشات پائلٹس کے لائسنس کے حوالے سے تھے، جِنہیں گزشتہ چند ماہ میں ادارے نے دور کیا۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ” پابندی ختم ہونے کے بعد اب یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو مہنگے ٹکٹس اور متبادل فلائٹس کے جھنجھٹ سے چھٹکارا ملے گا، اور پاکستانی کئی ممالک میں براہِ راست فلائٹ کے ذریعے جا سکیں گے۔”