پاکستان ابراہم اکارڈ کا حصہ نہیں بنے گا، دفتر خارجہ پاکستان

پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ابراہم اکارڈ کا حصہ نہیں بنے گا۔ دفتر خارجہ کے مطابق فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے موقف میں تبدیلی کو کوئی امکان موجود نہیں۔

اپنے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان کا “بورڈ آف پیس” میں شامل ہونا کسی طور ابراہیمی معاہدے سے جڑا ہوا ہے یا اس کا متبادل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت وزارت خارجہ اور تمام متعلقہ اداروں کے مشورے سے تمام قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کرنے کے بعد کی گئی۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کا اس فورم میں شامل ہونے کا بنیادی مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانا، تعمیر نو میں تعاون کرنا اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی بنیاد پر دیرپا اور منصفانہ امن کے قیام میں کردار ادا کرنا ہے۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ فورم اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت قائم کیا گیا ہے اور اس کا مقصد اقوام متحدہ کے نظام کی معاونت کرنا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شامل ہونے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور بورڈ آف پیس کی رکنیت کا مطلب فوجی دستے فراہم کرنا بھی نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ایران کے خلاف پابندیوں، طاقت کے استعمال اور اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور خطے میں مسائل کے حل کے لیے امن اور سفارتکاری کو ہی واحد راستہ سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری تباہی اور انسانی بحران کے تناظر میں بورڈ آف پیس فلسطینی عوام کے لیے امید کی ایک کرن ثابت ہو سکتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں