متحدہ عرب امارات، ترکی، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے دروازے مسلمانوں کے لیے بند رکھنے کی شدید مذمت کی ہے۔ مشترکہ بیان میں، مقدس مہینے رمضان کے دوران اس اقدام کو انتہائی قابلِ مذمت قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے قدیم شہر یروشلم میں داخلے پر سخت حفاظتی پابندیاں اور عبادت گاہوں تک رسائی میں امتیازی اور من مانے اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ وزرائے خارجہ کے مطابق، یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون بلکہ تاریخی اور قانونی حیثیت اور عبادت گاہوں تک آزادانہ رسائی کے اصول کے بھی خلاف ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس اقدام کو غیر قانونی اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ یروشلم ایک مقبوضہ شہر ہے اور اسرائیل کو اس پر یا وہاں موجود اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا احاطہ، جو تقریبا 144 دونم پر مشتمل ہے، صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ اس کے انتظام و انصرام اور اس میں داخلے کے قواعد کا اختیار صرف یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کے محکمے کو حاصل ہے، جو اردن کی وزارت اوقاف اور اسلامی امور کے تحت کام کرتا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مسجد اقصیٰ کے دروازے کھولے، قدیم شہر یروشلم میں داخلے پر عائد پابندیاں ختم کرے اور مسلمانوں کو مسجد میں عبادت کے لیے آنے سے روکنے کے اقدامات بند کرے۔
انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مضبوط موقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کو مجبور کرے کہ وہ یروشلم میں اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیاں اور غیر قانونی اقدامات بند کرے اور ان مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔