کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کی سہ فریقی کانفرنس کل ہوگی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں کل (20 اگست بروز بدھ) چین، افغانستان اور پاکستان کی سہ فریقی اعلیٰ سطح کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط کو فروغ دینے کے حوالے سے اہم امور زیرِ غور آئیں گے۔

افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیاء احمد تکل نے تصدیق کی ہے کہ اجلاس کے دوران سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، اقتصادی منصوبوں میں تعاون بڑھانے اور علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال ہوگا۔

کانفرنس میں چین کی نمائندگی کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹ بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ یی کریں گے، جب کہ پاکستان کے وفد کی قیادت نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کریں گے۔ افغانستان بطور میزبان اس اجلاس کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دے رہا ہے، جسے خطے میں تعاون اور استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق چینی وزیرِ خارجہ اپنے دورۂ کابل کے دوران امارت اسلامیہ کے اعلیٰ حکام سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات، توانائی کے منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تجارتی راہداریوں پر بات ہوگی۔ توقع ہے کہ چین افغانستان میں مزید سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائے گا۔

پاکستانی وفد کی شرکت کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ امکان ہے کہ کابل میں اسحاق ڈار افغان حکام سے سرحدی تعاون، تجارتی مشکلات کے حل اور سہ فریقی روابط کو عملی شکل دینے کے حوالے سے تبادلۂ خیال کریں گے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب خطہ ایک طرف نئے تجارتی مواقع تلاش کر رہا ہے، تو دوسری جانب امن و سلامتی کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ چین کی کوشش ہے کہ افغانستان کو علاقائی ترقی کا حصہ بنایا جائے جبکہ پاکستان بھی مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے ذریعے سہ فریقی تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

اجلاس کے اختتام پر تینوں ممالک کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کا امکان ہے جس میں سہ فریقی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر اتفاق رائے کا اظہار کیا جائے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں