پاک افغان طورخم سرحد 12 روز سے بند ،تجارتی نقصان کتنا ہوا؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے مصروف سرحدی گزرگاہ طورخم مسلسل بارہ روز سے بند ہے۔ یہ سرحد 21 فروری کو اس وقت بند کی گئی جب افغانستان میں ایک چیک پوسٹ کے قیام پر دونوں ممالک کےدرمیان تنازعہ کھڑا ہوا۔
ہزاروں کی تعداد میں مال بردار گاڑیاں اور مسافر سرحد کے دونوں جانب اس کے کھلنے کا انتظار کررہے ہیں۔ تاہم، گزشتہ 48 گھنٹوں میں دونوں ممالک کے سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ اور جھڑپوں سے حالات کشیدہ ہیں۔
فائرنگ کے واقعات اس وقت سامنے آئے جب اس سے ایک دن پہلے اتوار کو دونوں ممالک کے کسٹم اور سرحدی حکام کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔
پیر کی رات کو سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں دوبارہ شروع ہوئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق قریب گاؤں کو خالی کرایا گیا جبکہ مساجد سے تمام روشنیوں کو بند کرنے کے اعلانات بھی کیے گئے۔
پاکستان کے تین سیکورٹی اہلکار ان جھڑپوں کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں جبکہ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک افغان اہلکار کی ہلاکت کا دعوی بھی کیا ہے۔اسی اثناء میں بھگدڑ مچنے سے ایک ڈرائیور بھی حرکت قلب بند ہونے سے جان کی بازی ہار گیا ہے۔
پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کےسینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی نے تاشقند اردو کو بتایا کہ” سرحد بند ہونے کے بعد سے پھلوں اور سبزیوں سمیت سامان لے جانے والے 5000 سے زائد ٹرک اور گاڑیاں تجارتی راستے کے دوبارہ کھلنے کے انتظار میں دونوں طرف پھنسے ہوئے ہیں”۔
انہوں نے کہا” یہ بہت خطرناک صورتحال ہے اور دونوں ممالک کی تجارت بری طرح متاثر ہورہی ہے”۔
ضیاء الحق سرحدی کے مطابق،” پاکستان اور افغانستان کےدرمیان تجارت کا حجم 2 عشاریہ 5 ارب ڈالر تھا اور اس کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کی جار رہی تھی لیکن سرحد کی بار بار بندش سے اس میں کافی کمی آچکی ہے”۔
ماضی میں متعدد بار دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ چیک پوسٹ کے قیام اور دیگر سیاسی امور کی وجہ سے سرحد کو بند کیا گیا۔ اس وجہ سے ماہرین ایک جامع تجارتی پالیسی پر عمل درآمد پر زور دیتے ہیں۔
خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ضلع خیبر کے صدر یوسف آفریدی کے مطابق ، “بندش کی وجہ سے ابھی تک ایک کروڑ ڈالرز سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے اور تاحال نقصان جاری ہے”۔
انہوں نے کہا کہ ” دونوں ممالک کے حکام سے ہماری درخواست ہے کہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کریں۔ان مسائل کی وجہ سے پاکستان کا تجارتی حجم کافی کم ہوا ہے۔ کم از کم پانچ سال یا دس سال کی تجارتی پالیسی بنائی جائے”۔
سرحدی گزرگاہ پر یہ پیش رفت اس وقت ہو رہی ہے جب خیبرپختونخوا حکومت افغان طالبان کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی بنانے کا اعلان کرچکی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات کے ٹی اوآرز کی منظوری کا انتظار کر رہی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں