بھنڈی کو ہم برسوں سے سبزی سمجھ کر کھاتے آ رہے ہیں، مگر دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ نباتاتی اعتبار سے بھنڈی ایک پھل ہے۔ دنیا بھر میں اسے اوکرا (Okra) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جبکہ اس کا سائنسی نام Abelmoschus esculentus ہے۔
یہ نرم تنے والے نسبتاً چھوٹے پودے پر لگتی ہے۔ بھنڈی کے خوبصورت پھول کے بعد بننے والی سبز پھلی کے اندر بیج موجود ہوتے ہیں اور یہی خصوصیت اسے نباتاتی اعتبار سے پھل بناتی ہے۔
لیکن اصل دلچسپی بھنڈی کو کاٹنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اس سے نکلنے والا چپچپا، لیس دار مادہ محض ایک عام ’’لیس‘‘ نہیں بلکہ اسے سائنسی زبان میں میوسیلیج (Mucilage) کہا جاتا ہے۔ یہ قدرتی مادہ سائنس دانوں کی توجہ بھی حاصل کر چکا ہے اور فارماسیوٹیکل فارمولیشنز اور بائیومیٹریلز میں اس کے ممکنہ استعمال پر تحقیق کی گئی ہے۔
بھنڈی غذائیت میں بھی پیچھے نہیں۔ اس میں وٹامن سی، وٹامن کے، فولیٹ (وٹامن B9) اور غذائی فائبر سمیت کئی اہم اجزا پائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر اس میں موجود حل پذیر فائبر کی وجہ سے بلڈ شوگر پر اس کے ممکنہ اثرات پر تحقیق ہوئی ہے۔ تاہم اسے ذیابیطس کی دوا یا علاج کا متبادل سمجھنا درست نہیں۔
کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بھنڈی کے بیجوں سے تیل حاصل کیا جا سکتا ہے، جسے Okra Seed Oil کہا جاتا ہے، جبکہ اس کے تنے سے قدرتی ریشہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے مختلف صنعتی استعمال پر تحقیق موجود ہے۔
یعنی جس بھنڈی کو ہم چند مصالحوں کے ساتھ پکا کر کھا جاتے ہیں، اس کے پھل سے لے کر بیج، لیس اور تنے تک سائنس کے لیے دلچسپی کا سامان موجود ہے۔
اگلی بار پلیٹ میں بھنڈی آئے تو اسے صرف ایک سبزی نہ سمجھیے ، آپ کے سامنے نباتات، غذائیت اور سائنس کی ایک پوری چھوٹی سی لیبارٹری موجود ہے