میٹا پلیٹ فارمز، جو فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی ہے، نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے۔ کمپنی کی نئی قائم کی گئی اے آئی لیب نے اس ماہ اپنے پہلے جدید اور اعلیٰ سطح کے مصنوعی ذہانت ماڈلز کامیابی سے تیار کر لیے ہیں، جو فی الحال کمپنی کے اندر استعمال کے لیے فراہم کیے گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق میٹا کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر اینڈریو بوسورتھ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میٹا سپر انٹیلیجنس لیبز کی ٹیم کو کام کرتے ہوئے ابھی چھ ماہ بھی مکمل نہیں ہوئے، اس کے باوجود ابتدائی نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ ان کے مطابق تیار کیے گئے اے آئی ماڈلز مجموعی طور پر خاصے مؤثر اور بہتر کارکردگی کے حامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ میٹا ایک تحریری مواد پر مبنی اے آئی ماڈل پر بھی کام کر رہا ہے جسے اندرونی طور پر “ایووکاڈو” کا نام دیا گیا ہے، جبکہ تصاویر اور ویڈیوز کے تجزیے کے لیے ایک الگ ماڈل “مینگو” کے نام سے تیار کیا جا رہا ہے۔ تاہم میٹا انتظامیہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ حال ہی میں اندرونی طور پر فراہم کیے گئے ماڈلز انہی میں سے کون سے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں میٹا کی سرگرمیوں کو خاصی توجہ سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ کمپنی کے سربراہ مارک زکربرگ نے حالیہ عرصے میں اے آئی قیادت میں بڑی تبدیلیاں کیں، نئی لیب قائم کی اور عالمی سطح کے ماہرین کو بھاری مالی پیکجز پر بھرتی کیا۔ ان اقدامات کا مقصد گوگل اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تیزی سے بڑھتی ہوئی اے آئی مسابقت میں میٹا کو مضبوط مقام دلانا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل میٹا کو اپنے لاما 4 اے آئی ماڈل کی کارکردگی پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ اس دوران گوگل اور دیگر اداروں نے مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں نمایاں برتری حاصل کی۔ اینڈریو بوسورتھ کے مطابق کسی بھی اے آئی ماڈل کی تربیت کے بعد بھی اسے قابلِ استعمال بنانے کے لیے مزید تکنیکی کام درکار ہوتا ہے تاکہ وہ کمپنی کے اندر اور عام صارفین دونوں کے لیے مؤثر ثابت ہو سکے۔
میٹا کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر کا کہنا ہے کہ 2025 کمپنی کے لیے ایک مشکل اور غیر یقینی سال رہا، جس میں اے آئی لیب کی تعمیر، انفراسٹرکچر کی تیاری اور توانائی کے وسائل کے حصول پر بھرپور توجہ دی گئی۔ ان کے مطابق 2026 اور 2027 میں صارفین کے لیے اے آئی پر مبنی مصنوعات واضح اور مستحکم شکل میں سامنے آئیں گی، کیونکہ حالیہ ماڈلز اب روزمرہ کے عام سوالات اور خاندانی نوعیت کے معاملات میں بہتر جواب دینے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔
میٹا اب اے آئی سے لیس مصنوعات کو مارکیٹ میں لانے پر بھی کام کر رہا ہے، جن میں جدید اسمارٹ گلاسز سمیت دیگر صارفین کے لیے تیار کی جانے والی ٹیکنالوجیز شامل ہیں، جو مستقبل میں ڈیجیٹل دنیا کے استعمال کے طریقے کو مزید بدل سکتی ہیں