پاکستان: پشاورمیں غیرقانونی افغان باشندوں کی میپنگ کا آغاز، ملک بدری کا عمل دوبارہ شروع

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی موجودگی کا تعین کرنے کے لیے باقاعدہ میپنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مشترکہ طور پر یہ مہم 3 اپریل سے فعال کر دی گئی ہے، جس میں 90 سے زائد ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
حکام کے مطابق، ان ٹیموں میں پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار شامل ہیں، جبکہ 200 سے زائد پولیس اہلکاروں کو اس مقصد کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ میپنگ کا مقصد یہ جاننا ہے کہ، پشاور کے کن علاقوں میں کتنے افغان شہری بغیر قانونی دستاویزات کے مقیم ہیں۔
پشاور اور خیبر میں قائم کیے گئے ہولڈنگ سینٹرز کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ ہر ہولڈنگ سینٹر پر 230 پولیس اہلکار تعینات ہیں، جو وہاں رکھے جانے والے افغان شہریوں کی نگرانی اور سیکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔ ان مراکز میں غیرقانونی افغان باشندوں کو وقتی طور پر رکھا جائے گا، جہاں سے ضروری قانونی کارروائی کے بعد انہیں افغانستان واپس بھیج دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ، حکومت پاکستان نے 31 مارچ تک غیرقانونی افغان باشندوں کو ملک چھوڑنے کی مہلت دی تھی۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق ملک بدری کا عمل یکم اپریل سے شروع ہونا تھا، تاہم عیدالفطر کے تناظر میں دو روز کی نرمی دی گئی، جس کے بعد 3 اپریل سے یہ عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ پہلے ہی پاکستان کی افغان پناہ گزینوں کے لیے خدمات کو سراہ چکا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ، اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی میزبانی کسی بھی ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان میں اس وقت لاکھوں افغان شہری مختلف حیثیتوں میں مقیم ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔
حکومتی مؤقف کے مطابق، ملک کی سیکیورٹی اور داخلی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے غیرقانونی تارکین وطن کی شناخت اور واپسی ضروری ہے، اور یہ عمل مرحلہ وار جاری رکھا جائے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں