لاس اینجلس میں لگی آگ 3 ہفتوں بعد بجھ گئی ، 275 ارب ڈالر کا نقصان

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں لگی آگ تین ہفتوں بعد بجھ گئی ، 7 جنوری کو لگنے والی آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کیلیفورنیا فائر ڈیپارٹمنٹ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 7 جنوری 2025ء کو لگنے والی آگ اب مکمل طور پر بجھا لی گئی ہے ۔

 کیلیفورنیا فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق  آگ کے باعث 37,000 ایکڑ سے زائد رقبہ اور 10,000 سے زائد گھر جل گئے ۔ آگ کے بعد تقریباً 30 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں افراد بےگھر ہوگئے۔خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ آگ کے باعث 250 سے 275 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ تاحال آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی ۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور خشک سالی کے باعث آگ نے خوفناک صورتحال اختیار کی ۔

لاس اینجلس کے میئر کیرن باس کہتے ہیں کہ بحالی کا عمل تیز کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد اپنے گھروں میں منتقل کیا جا سکے ۔

امریکی میڈیا کے مطابق آگ بجھانے کی کوششوں کے دوران بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آتش زنی کے متعدد واقعات سے نمٹنا پڑا اور حکام نے آگ لگانے کے الزام میں کم از کم 8 افراد کو گرفتار بھی کیا ۔ گرفتار کئے گئے افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں درختوں ، جھاڑیوں پتوں اور کچرے کو آگ  لگائی تھی ۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق 14 جنوری کی شام ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا جس نے مبینہ طور پر کچرے کے ڈھیر کو آگ لگائی ۔لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے مطابق خاتون نے دوران تفتیش اعتراف بھی کیا کہ  وہ آگ لگانے اور تباہی پھیلانے سے لطف اندوز ہوتی تھی۔

امریکی میڈیا کے مطابق اسی روز ایک اور شخص کو بھی درختوں کو آگ لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ جلتے پتوں کی خوشبو پسند کرتا ہے۔12جنوری کو ایک اور مشتبہ شخص کو شمالی ہالی ووڈ میں آتشزنی کے پرانے وارنٹ پر گرفتار کیا گیا، اس پر باربی کیو لائٹر کا استعمال کر کے آگ لگانے کا الزام تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے 95 فیصد واقعات انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، چاہے وہ آتش زنی ہو، گرے ہوئے بجلی کے تار ہوں یا غیر محتاط آتشبازی کے واقعات ۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں