لبنانی فٹ بالر سیلین حیدر کے خواب جنگ کی زد میں

لبنان کی 19 سالہ فٹ بالر سیلین حیدر، جو قومی خواتین ٹیم میں کھیلنے کا خواب دیکھ رہی تھیں، اسرائیلی فضائی حملے میں شدید زخمی ہو کر طبی طور پر کوما میں چلی گئی ہیں۔
سیلین کا خاندان ان لاکھوں افراد میں شامل تھا جو اسرائیلی بمباری کی وجہ سے جنوبی بیروت سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے، لیکن سیلین نے اپنی تعلیم اور تربیت کے لیے واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے والد عباس حیدر کے مطابق، وہ دن میں گھر سے نکلتی اور رات کو واپس آتی تھیں۔
ہفتے کے روز، جب سیلین نے اسرائیلی فوج کے انخلا کے نئے احکامات پر عمل کرتے ہوئے گھر چھوڑا، اسی دوران ان کے آبائی علاقے پر فضائی حملہ ہوا۔ سیلین کی کھوپڑی ٹوٹ گئی اور برین ہیمرج کی تشخیص ہوئی۔ ان کی والدہ ثنا شہرور نے بتایا کہ "میری بیٹی نے اپنے پسندیدہ کھانے کی فرمائش کی تھی، لیکن ایک گھنٹے بعد پتہ چلا کہ وہ زخمی ہو گئی ہیں”۔
سیلین ایک باصلاحیت مڈفیلڈر تھیں، جنہوں نے قومی انڈر 18 ٹیم کے ساتھ 2022 ویسٹ ایشین فٹ بال چیمپیئن شپ جیتی۔ وہ بیروت فٹ بال اکیڈمی کی کپتان بننے جا رہی تھیں۔ ان کے والد نے آنسو بھری آنکھوں سے کہا، "ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ ہم ایسی جنگ کی قیمت ادا کر رہے ہیں جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔”

لبنان میں فٹ بال پر اثرا
لبنانی فٹ بال ایسوسی ایشن پہلے ہی ملک میں جاری جنگ کی وجہ سے فٹ بال مقابلے غیر معینہ مدت تک ملتوی کر چکی ہے۔ سیلین کی حالت نے لبنانی عوام میں غم اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے، اور سوشل میڈیا پر ان کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق، اکتوبر سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 3544 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں۔ کوچ سمیر باربری نے کہاکہ سیلین میدان کی جنگجو تھیں، اور ہم سب ان کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں