کافی وقت سے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا پاکستانی میڈیا کو شرم نہیں آتی؟ کیا آپ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں میری رہنمائی فرما سکتے ہیں؟
عرصہ ہوا ، ٹی وی دیکھنا چھوڑ چکا ہوں ۔ مصنوعی لہجے ، پست درجے کا معیار گفتگو ، ذوق اور فکر سے محروم چیختے چنگھاڑتے لہجے ، سچ پوچھیے تو بے زاری ہی نہیں ہوتی، گھن بھی آتی ہے۔
کراچی میں گل پلازے کا سانحہ ہوا تو بے اختیار ہو کر ٹی وی آن کیا تا کہ تازہ ترین صورت حال جان سکوں ۔ لاشے ، آہیں ، سوگ ، سب دکھ تھا کہ پھر اچانک کمرشل بریک لے لی گئی ۔ لاشے اور سوگوار پیچھے رہ گئے اور سکرین پر کمرشلز کے نام پر طوفان بد تمیزی شروع ہو گیا ۔
میک اپ سے لدے مصنوعی چہرے ، بے ہنگم شور اور بدذوقی ، نہ سر نہ پیر ، صرف اچھل کود کہ وطن عزیز کی ضرورت سے دو چار پاؤ زیادہ آزاد صحافت اسی کو آزادی سمجھتی ہے اور اسی کو روشن خیالی کی سند تصور کیا جاتا ہے۔
ایک تو ہمیں ڈھنگ کے اشتہار بنانا نہیں آتے۔ تہذیبی قدروں اور روایات سے عاری بے اذیت ناک قسم کی کمرشلز ہوتے ہیں ، اشتہار چاہے ٹریکٹر کا ہی کیوں نہ ہو بیچ میں ایک عدد اچھلتی کودتی خاتون نہ دکھائی جائے تو ہماری روشن خیالی کو ملٓہلک امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ معلوم نہیں کس پس منظر کے لوگوں کے ہاتھ میں معاملات آ گئے ہیں۔
یہ چیزیں عام حالات میں بھی طبیعت کو بوجھل کر دیتی ہیں لیکن کم از کم اس وقت تو حیا کر لینی چاہیے جب ملک میں سوگ کی کیفیت ہو۔ ایک لمحے پہلے لاشیں ، دوسرے لمحے اچھل کود۔ شرم اور حیا تو بھلے نہ ہو کیا اس میڈیا کے لیے پیمرا کا کوئی ضابطہ اخلاق بھی نہیں جو بتائے کہ سوگواری کے عالم میں نشریات دکھانے کے آداب کیا ہیں؟
متلی سی ہونی لگی تو ٹی وی آف کر دیا اور سوشل میڈیا کھول لیا ۔ پہلی نظر ہی ایک نجی ٹی وی کے پیج پر پڑی۔ قارئین سے پوچھا جا رہا تھا کہ فلاں ڈرامے میں جو ایک نازنین ہے ، جس کے دو عاشق ہیں ، تو ذرا بتائیے کہ اس نازنین کی ڈولی کس عاشق کے گھر جائے گی ۔ ذرا بتائیے کہ کون خوش قسمت ہو گا جو اسے لے جائے گا۔
غور فرمائیے یہ سب اس وقت ہو رہا تھا جب معاشرہ کراچی کے پلازے میں جل کر مر جانے والوں کے سوگ میں تھا۔ ویسے تو اس میڈیا کے نیم خواندہ تجزیہ کار سر شام بیٹھ جائیں تو دنیا جہاں کو دنیا جہاں کے مسائل پر رہنمائی فرمانے کو تلے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن خود اپنی تہذیب یہ آج تک نہیں کر سکے کہ کسی صدمے اور سانحے کے دوران نشریات چلانے کے آداب کیا ہوتے ہیں اور اخلاقیات کیا ہوتی ہیں۔
ترک ڈرامے ہمارے ہاں شوق سے دیکھے جاتے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ترکی میں جب کچھ سانحات ہوئے تو تفریحی نشریات روک دی گئیں اور ہمیں یہاں معلوم ہوا کہ اس ہفتے فلاں ڈرامہ نشر نہیں ہو گا کیونکہ ترکی میں فلاں سانحے پر سوگ کا عالم ہے۔
کچھ سال پہلے وہاں کوئلے کی کان میں حادثہ ہوا تو چینلز پر تفریحی پروگرام روک دیے گئے۔ ڈرامے تک نشر نہیں ہوئے۔ موسیقی بند کر دی گئی ۔ نشریات کا آہنگ ایسا تھا کہ پتا چل رہا تھا سانحہ ہوا ہےا ور سوگ کا عالم ہے۔ یہ نہیں تھا کہ ادھر نیوز کاسٹر نے لاشوں کی کربناکی پر بات کی اور ادھر کمرشل بریک لے کر چینل فورا بزنس موڈ میں چلے گئےا ور تھرکنا شروع کر دیا۔
ابھی پچھلے سال کی بات ہے ، ترکی میں ہوٹل میں آگ لگی اور کچھ لوگ جاں بحق ہو گئے ، اس کے سوگ میں کرلوس عثمان اور سلطاں محمد فاتح کی نشر ہونے والی اقساط کو روک دیا گیا کہ سوگ کے عالم میں تفریح نہیں دکھائی جا سکتی۔ متعدد دیگر مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن ان دو ڈراموں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ دونوں ڈرامے پاکستان میں دیکھے جاتے ہیں اور لوگوں کو یاد ہو گا کہ ان کی اقساط نشر نہیں ہوئی تھیں۔
مانچسٹر میں دھماکہ ہوا ، کئی مزاحیہ اور تفریحی پروگرامز روک دیے گئے۔ بی بی سی بھی ان میں شامل تھا جنہوں نے اس حادثے کی وجہ سے اپنے تفریحی پروگرام معطل کر دیے ۔
فرانس میں پیرس حملوں کے بعد میڈیا کا طرز عمل اسی طرح ذمہ دارانہ تھا جہاں ٹی وی فرانس 1، فرانس 2 اور فرانس 3 جیسے چینلز نے اپنے تمام ڈرامے ، کامیڈی شوز اور میوزک بند کر دیے۔
جاپان میں زلزلہ آیا ، نہ صرف این ایچ کے ، بلکہ فیوجی ٹی وی اور ٹی وی آساہی نے تمام ایسی نشریات روک دیں جن کا تعلق تفریح سے تھا۔ موسیقی ، ڈرامے کمرشلز سب روک دیے گئے۔
یہ صرف ہمارا میڈیا ہے جو ہم وقت ” بزنس موڈ ” میں ہوتا ہے۔ اس کے سر پر ہر وقت دھندا سوار ہوتا ہے۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ شہر سلگ رہا ہے یا صحن میں لاشے رکھے ہیں ۔ یہ لوگوں کے دکھوں سے لاتعلق اور بے نیاز ہوتا ہے۔ یہ اتنا سفاک ہے کہ ادھر لاشوں کی خبر دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ ملک میں سوگواری کا عالم ہے اور ساتھ ہی کمرشل بریک لے کر ڈھول ڈھمکوں میں مصروف ہو جاتا ہے۔ سانحہ کتنا ہی بڑا ہو اس کے تفریحی پروگرام معمول کے مطابق چلتے ہیں۔
کوئی زوال سا زوال ہے۔ نہ خبر دینے کے آداب ہیں نہ گفتگو کا سلیقہ۔ جو خبر معقول انداز سے دی جا سکتی ہے اس پر بھی یہ چیخ چلا رہے ہوتے ہیں۔ مکالمے کے آداب انہوں نے پامال کر دیے ہیں ، مہمان بات کرنے کی بجائے تصادم پر مائل ہوتے ہیں ۔ تجزیہ کاروں کی گفتگو سطحی ہوتی ہے۔ احساس ہی نہیں کہ کس ماحول میں نشریات کے آداب اور تقاضے کیا ہوتے ہیں۔
سوچ رہا ہوں کہ کیا پاکستانی میڈیا کی فکری سطح بہت پست ہے یا اسے شرم نہیں آتی؟ کیا آپ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں میری رہنمائی فرما سکتے ہیں۔