ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجی نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں جاری احتجاج کے دوران گرفتار افراد کے خلاف تیز رفتار مقدمات چلائے جائیں گے اور سزاؤں پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام پر سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے۔
ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں کہا کہ اگر کوئی کارروائی کرنی ہے تو فوری طور پر کی جائے، تاخیر سے اس کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گرفتار مظاہرین کو جلد پھانسی دی جا سکتی ہے۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں اب تک کم از کم 2,571 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد مظاہرین کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں 12 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 18 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین کو پھانسیاں دی گئیں تو امریکہ سخت ردعمل دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن شہریوں کے قتل اور پھانسیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ادھر ایران میں بدھ کے روز مظاہروں میں ہلاک ہونے والے 100 سیکیورٹی اہلکاروں کی اجتماعی تدفین کی تیاریاں کی گئیں۔
انٹرنیٹ بندش کے باوجود اسٹارلنک سیٹلائٹ سروس کے ذریعے ایران میں محدود انٹرنیٹ بحال ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم حکام مبینہ طور پر سیٹلائٹ ڈشز کی تلاش میں چھاپے مار رہے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق رابطوں میں تعطل کے باعث ایران میں اصل صورتحال کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔