پاکستان کے وزیر تجارت، جام کمال خان، تین روزہ دورے پر ازبکستان گئے۔ ان کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ وزارت تجارت کے مطابق، یہ دورہ ان کوششوں کا حصہ ہے جن کے تحت پاکستان اپنی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔
ازبکستان کے ساتھ تعاون کی ترجیحات
پاکستان خطے میں بہتر رابطے اور وسط ایشیائی ریاستوں کو گرم پانی کی بندرگاہوں تک رسائی دینے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان نے وسط ایشیائی ریاستوں کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، جس کے تحت چین نے پاکستان میں 65 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم کر رکھا ہے۔
اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور منصوبے
وزارت تجارت کے مطابق، وزیر تجارت کے اس دورے کے دوران ازبک نائب وزیر اعظم، جناب جمشید خوجایوف، اور وزیر ٹرانسپورٹ، جناب الیخم مخکاموف، سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے اہم ملاقاتیں ہوئی۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، اور لاجسٹکس سے متعلق اہم منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اہم اجلاس اور کاروباری فورم
دورے میں پاکستان-ازبکستان انٹر گورنمنٹل کمیشن کے نویں اجلاس اور پاکستان-ازبکستان بزنس فورم کے چوتھے سیشن کا انعقاد بھی شامل تھا۔ یہ اجلاس وزیر تجارت جام کمال خان اور ازبک وزیر برائے سرمایہ کاری، صنعت، اور تجارت، جناب لذیز قدرتوف کی سربراہی میں ہوا۔
بزنس فورم میں پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 33 کاروباری وفود نے شرکت کی۔ ان کے درمیان بی ٹو بی ملاقاتوں کا مقصد نئی شراکت داریوں کو فروغ دینا اور تجارتی تعلقات کو وسعت دینا تھا۔
پاکستان اس وقت معاشی بحران سے دوچار ہے، جہاں مہنگائی دوہرا ہندسہ عبور کر چکی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر ہیں، اور روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کافی حد تک گر چکی ہے۔ وزارت کے مطابق، یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط کرے گا بلکہ ازبکستان کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شمولیت کی حمایت میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
پاکستان اور ازبکستان کا یہ بڑھتا ہوا تعاون خطے میں معاشی استحکام اور ترقی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔