بھارتی سپریم کورٹ نےیوٹیوبر رنویر الہ آبادیا کو پروگرام کی مشروط اجازت دے دی

بھارتی سپریم کورٹ نے یوٹیوبر اور کانٹینٹ کریئیٹر، رنویر الہ آبادیا کو مشروط طور پر اپنے یوٹیوب پروگرامز جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، رنویر الہ آبادیا پر اس وقت پابندی عائد کی گئی تھی جب انہوں نے یوٹیوبر، سمے رائنا کے پروگرام ‘انڈیاز گاٹ لیٹنٹ’ میں شرکت کی، جہاں ایک متنازع گفتگو کے بعد ان کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس واقعے کے بعد بھارتی حکومت نے ان کے یوٹیوب پروگرامز پر پابندی لگا دی، جس پر انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
دو ہفتے سے زائد جاری رہنے والی عدالتی سماعت کے بعد 3 مارچ کو بھارتی سپریم کورٹ نے مشروط طور پر انہیں یوٹیوب پر دوبارہ پروگرام کرنے کی اجازت دے دی۔ تاہم، عدالت نے ہدایت دی کہ،وہ تمام عمر، طبقے اور مذاہب کے جذبات کا خیال رکھیں۔ایسا مواد تیار نہ کریں جو کسی کی دل آزاری یا معاشرتی اقدار کے خلاف ہو۔شائستہ زبان اور مناسب گفتگو کو یقینی بنائیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ، رنویر الہ آبادیا کے پروگرام فحش تو نہیں ہیں، لیکن ان میں استعمال ہونے والی زبان نامناسب ہے، اس لیے انہیں محتاط رہنا ہوگا۔
فروری کے آغاز میں ‘انڈیاز گاٹ لیٹنٹ’ کی ایک قسط میں رنویر الہ آبادیا نے مہمانوں سے ان کے والدین کے جنسی تعلقات کے حوالے سے نازیبا سوالات کیے، جس پر بھارت بھر میں شدید احتجاج ہوا اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
بھارتی قومی کمیشن برائے خواتین نے یوٹیوب کو خط لکھ کر متنازع پروگرام ہٹانے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد پروگرام کے پروڈیوسر، سمے رائنا نے تمام ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں۔
رنویر الہ آبادیا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ، ان کے پاس 280 ملازمین ہیں اور ان کے پروگرامز پر پابندی لگنے سے سینکڑوں لوگوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے، جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ نے انہیں حکومت اور پولیس کے ساتھ تمام تحقیقات میں مکمل تعاون کا حکم دیا ہے۔ اب وہ یوٹیوب پر اپنے پروگرامز جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن عدالتی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں