انڈین آئیڈل کے تیسرے سیزن کے فاتح اور معروف گلوکار و اداکار پرشانت تمنگ کی اچانک وفات پر بھارت بھر میں ان کے مداح اور چاہنے والے غم میں ڈوب گئے ہیں۔ 43 سالہ پرشانت تمنگ دہلی میں اپنے گھر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، جس کے بعد ان کی میت مغربی بنگال کے پہاڑی شہر دارجلنگ منتقل کی گئی۔
دارجلنگ پہنچنے پر مداحوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر جمع ہو کر اپنے محبوب گلوکار کو آخری الوداع کہا۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی وفات پر تعزیتی پیغامات اور خراجِ عقیدت کا سلسلہ جاری ہے۔ پرشانت تمنگ کی کامیابی کو نیپالی زبان بولنے والی گورکھا برادری کے لیے باعثِ فخر قرار دیا جا رہا ہے، جو بھارت کی مختلف ریاستوں میں آباد ہے۔
گورکھا جن مکتی مورچہ کے سربراہ بمل گرونگ نے کہا کہ پرشانت تمنگ نے پوری گورکھا برادری کی امیدوں اور خوابوں کو عالمی سطح پر پہنچایا اور ہر گورکھا کو فخر کا موقع دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرشانت نہ صرف بھارتی گورکھاؤں بلکہ دنیا بھر کے گورکھاؤں کو موسیقی کے ذریعے جوڑنے والی شخصیت تھے۔
پرشانت تمنگ نے 2007 میں انڈین آئیڈل میں شرکت کر کے گورکھا برادری کو مرکزی دھارے میں شناخت دلائی۔ اس وقت دارجلنگ میں موبائل فون عام نہیں تھے، لیکن ان کے لیے ووٹ ڈالنے کی خاطر لوگوں نے چندہ جمع کر کے موبائل فون خریدے اور یہاں تک کہ ان کی کامیابی کے لیے دعائیں بھی کیں۔ ان کی جیت کے بعد ایک ریڈیو میزبان کے متنازع بیان پر مغربی بنگال میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا تھا۔
پرشانت کی بہن انوپما گرونگ نے کہا کہ وہ صرف ایک گلوکار نہیں تھے بلکہ اپنے علاقے کے لیے نمائندگی اور فخر کی علامت تھے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے بعد کوئی ایسی شخصیت سامنے آئی تھی جس سے پہاڑی علاقوں کے لوگ خود کو جوڑ سکتے تھے۔
انڈین آئیڈل میں شرکت سے قبل پرشانت تمنگ کولکتہ پولیس میں بطور کانسٹیبل خدمات انجام دے رہے تھے، جہاں پولیس آرکسٹرا میں گلوکاری کے دوران ان کی صلاحیتوں کو پہچانا گیا۔ شو جیتنے کے بعد انہوں نے ہندی اور نیپالی زبانوں میں اپنا پہلا میوزک البم ریلیز کیا۔
بعد ازاں انہوں نے نیپالی فلم گورکھا پلٹن سے اداکاری کا آغاز کیا اور کئی کامیاب فلموں میں کام کیا۔ تاہم 2025 میں ایمیزون پرائم کی مشہور ویب سیریز پاتال لوک کے دوسرے سیزن میں قاتل کا کردار ادا کر کے انہوں نے بطور اداکار وسیع شہرت حاصل کی۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پرشانت تمنگ کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دارجلنگ کی پہچان اور کولکتہ پولیس سے وابستہ ایک قابلِ فخر شخصیت تھے۔ انڈین آئیڈل کے جج اور معروف گلوکار ادت نارائن نے بھی ان کی موت کو دل دہلا دینے والا قرار دیتے ہوئے انہیں ایک باصلاحیت اور شائستہ انسان کہا