‘بھارتی کرکٹ بورڈ اس میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا’، دی ہنڈرڈ لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی سلیکشن پر بھارتی کرکٹ بورڈ کا ردِعمل

پاکستان کے لیگ اسپنر ابرار احمد برطانیہ کے’دی ہنڈرڈ کرکٹ لیگ’ کا حصہ بن گئے ہیں۔ انہیں سن رائزرز لیڈز کی جانب سے 1 لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ میں خریدا گیا۔ اس سے قبل خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ بھارتی ملکیت رکھنے والی ٹیمیں پاکستانی کھلاڑیوں کو نہیں رکھیں گی، تاہم اس خریداری نے ان قیاس آرائیوں کو کافی حد تک ختم کر دیا ہے۔

رواں برس کے آغاز میں بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ چند ٹیمیں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کو اس برطانوی لیگ میں شامل کرنے سے گریز کریں گی۔ اس کے بعد انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ اور لیگ میں شامل تمام ٹیموں نے واضح کیا تھا کہ کسی کھلاڑی کو اس کی قومیت کی بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

ابرار احمد نے دو ہزار چوبیس میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی شروع کی اور اب تک 38 میچوں میں 52 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا اکانومی ریٹ 6.67 رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس لیگ کی نیلامی میں توجہ کا مرکز بنے۔ نیلامی کے دوران سن رائزرز لیڈز نے ان کے لیے ابتدائی بولی 1 لاکھ 30 ہزار پاؤنڈ سے شروع کی، تاہم بعد میں ٹرینٹ راکٹس کی دلچسپی کے باعث بولی بڑھا کر 1 لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ تک لے جائی گئی اور بالآخر وہ سن رائزرز لیڈز کا حصہ بن گئے۔

اسی نیلامی میں پاکستان کے ایک اور لیگ اسپنر عثمان طارق کو برمنگھم فینکس نے 1 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ میں حاصل کیا۔ دوسری جانب پاکستان کے تیز گیند باز شاہین شاہ آفریدی نے نیلامی سے اپنا نام واپس لے لیا، جبکہ شاداب خان اور حارث رؤف کسی ٹیم کی توجہ حاصل نہ کر سکے اور فروخت نہ ہو سکے۔

پاکستانی کھلاڑیوں کو 2009 کے بعد سے بھارتی کرکٹ لیگ انڈین پریمیئر لیگ میں شامل نہیں کیا جاتا۔ اسی پس منظر میں ابرار احمد کی خریداری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ سن رائزرز لیڈز کی مالک کمپنی اسی بھارتی لیگ کی ایک ٹیم سے بھی منسلک ہے۔

دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا اختیار صرف بھارتی لیگ تک محدود ہے اور بیرون ملک ہونے والی کسی لیگ میں ٹیم مالکان کے فیصلوں میں بورڈ مداخلت نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ٹیم بیرون ملک کسی کھلاڑی کو منتخب کرتی ہے تو یہ مکمل طور پر اس ٹیم کا فیصلہ ہوتا ہے اور بورڈ اس میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔

ابرار احمد کی اس خریداری کے بعد سماجی ذرائع ابلاغ پر بھارت کے بعض شائقین نے تنقید بھی کی اور ٹیم کی مالک کاویہ مارن کے فیصلے پر اعتراضات سامنے آئے، تاہم کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بعض ٹیمیں سیاسی کشیدگی سے ہٹ کر کھلاڑیوں کی کارکردگی کو ترجیح دے رہی ہیں۔
دی ہنڈرڈ کرکٹ لیگ دنیا کی واحد لیگ ہے جس میں ہر اننگز میں سو گیندیں ہوتی ہیں۔ آئندہ ایڈیشن اکیس جولائی سے سولہ اگست تک برطانیہ میں کھیلا جائے گا، جبکہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں ایم آئی لندن اور سن رائزرز لیڈز کے درمیان ایک اہم مقابلہ متوقع ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں