امریکی پابندیوں کے دباؤ پر بھارت کا چاہ بہار منصوبے سے عملی انخلا

امریکہ کی نئی پابندیوں کے ردِعمل میں بھارت نے ایران کو تقریباً 12 کروڑ ڈالر منتقل کر دیے ہیں تاکہ چاہ بہار بندرگاہ منصوبے سے اپنی تمام مالی ذمہ داریاں مکمل طور پر ختم کی جا سکیں۔ برطانوی اخبار دی اکنامک ٹائمز کے مطابق اس ادائیگی کے بعد بھارت پر ایران کے لیے کسی قسم کی مالی واجب الادا رقم باقی نہیں رہی۔

ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران اب اس رقم کو اپنی صوابدید پر استعمال کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ گزشتہ سال بھارت کو امریکی پابندیوں سے چھ ماہ کی عارضی چھوٹ ملی تھی۔ 2024 میں بھارت اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت بھارت کو دس برس تک چاہ بہار بندرگاہ کے استعمال کا حق حاصل تھا۔

تاہم پابندیوں کی بحالی کے بعد سرکاری ادارے انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) نے عملی طور پر اس منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ ادارے کے تمام سرکاری ڈائریکٹرز نے استعفیٰ دے دیا جبکہ ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی تاکہ منصوبے سے وابستہ افراد کو ممکنہ امریکی پابندیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 12 جنوری 2026 کے اعلان کے بعد سامنے آیا، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر امریکہ کے ساتھ تجارت میں 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اگر یہ پابندیاں نافذ ہوتیں تو بھارت کی امریکی برآمدات پر مجموعی ٹیکس کی شرح 75 فیصد تک پہنچ سکتی تھی۔

سرکاری اندازوں کے مطابق ایران کے ساتھ بھارت کی سالانہ تجارت تقریباً 1.68 ارب ڈالر ہے، جو امریکی منڈی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اسی لیے معاشی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے حکومت نے چاہ بہار منصوبہ ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد چاہ بہار بندرگاہ کی وہ اہمیت بھی کم ہو گئی تھی جو پہلے بھارت کو وسطی ایشیا تک رسائی فراہم کرتی تھی۔ ایران میں داخلی بے چینی اور خطے کی غیر یقینی صورتحال نے بھی منصوبے کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا تھا۔

اس فیصلے سے بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم راستہ کھونا پڑا ہے، جو پاکستان کو بائی پاس کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے بھارت کی آزاد خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت کی واپسی سے پیدا ہونے والا خلا چین پر کر سکتا ہے، جو امریکی پابندیوں کے باوجود خطے میں سرمایہ کاری کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے بحرِ ہند میں چین کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اگرچہ مجموعی طور پر ایران بھارت کا بڑا تجارتی شراکت دار نہیں، تاہم باسمتی چاول جیسی بعض برآمدات اس فیصلے سے متاثر ہو سکتی ہیں، جہاں ایران بھارت کی بڑی منڈی سمجھا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ وقتی معاشی تحفظ فراہم کرتا ہے، لیکن طویل المدتی علاقائی حکمتِ عملی کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے

Author

اپنا تبصرہ لکھیں