بھارت سے آنے والی آلودہ ہواؤں نے لاہور کو ایک بار پھر فضائی آلودگی کے لحاظ سے دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست کر دیا ہے۔ ان ہواؤں کا اثر نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقوں میں بھی نمایاں ہے۔
فضائی آلودگی کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، لاہور میں پارٹیکولیٹ میٹر کی سطح 753، ملتان میں 587 اور پشاور میں 463 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ہوا میں موجود خطرناک ذرات کی وہ سطح ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس آلودگی سے سانس لینے میں دشواری، ناک، کان، اور گلے کی بیماریوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شہریوں کو سخت احتیاطی تدابیر اپنانے کی تاکید کی گئی ہے۔
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ اب یہ مسئلہ کسی مخصوص شہر یا صوبے کا نہیں، بلکہ یہ پورے ملک اور خطے کے لیے سنگین انسانی مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدید آلودگی والے علاقوں میں شہری بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔