سائنس دانوں نے جنوبی امریکا میں جنگلی بلی کی ایک نئی قسم کی شناخت کی ہے، جسے Leopardus tilcayo کا سائنسی نام دیا گیا ہے۔ سائنسی جریدے نیچر کے مطابق یہ ایک صدی سے زائد عرصے میں سائنس کی جانب سے باقاعدہ بیان کی جانے والی بلی کی پہلی نئی species ہے۔
نئی قسم کی یہ جنگلی بلی عام گھریلو بلی سے بھی چھوٹی ہے اور اس کے جسم پر تیندوے جیسے دھبے موجود ہیں۔ اسے جنوبی امریکا میں پائی جانے والی چھوٹی جنگلی بلیوں کے گروہ ’ٹائیگر کیٹس‘ کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اس دریافت سے متعلق تحقیق سائنسی جریدے ’کرنٹ بائیولوجی‘ میں شائع ہوئی ہے۔ جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا کہ جنوبی امریکا کی جن ٹائیگر کیٹس کو ماضی میں ایک ہی species یا محدود انواع کا حصہ سمجھا جاتا تھا، ان میں پہلے اندازے سے کہیں زیادہ جینیاتی فرق موجود ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ گروہ دراصل پانچ الگ انواع پر مشتمل ہوسکتا ہے، جن میں نئی شناخت کی جانے والی Leopardus tilcayo بھی شامل ہے۔
’تلکایو‘ نام بولیویا کے یونگاس جنگلات میں رہنے والے مقامی لوگوں میں اس بلی کے لیے پہلے سے استعمال ہونے والے نام سے لیا گیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ نئی درجہ بندی صرف حیاتیاتی اعتبار سے اہم نہیں بلکہ ان جنگلی بلیوں کے تحفظ کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف اور جینیات کے ماہر ایڈوارڈو ایزیریک کے مطابق اگر وسطی اور جنوبی امریکا کے مختلف علاقوں میں پائی جانے والی ٹائیگر کیٹس کو ایک ہی species تصور کیا جائے تو مجموعی آبادی بڑی دکھائی دے سکتی ہے اور ان کے معدوم ہونے کے خطرے کا درست اندازہ لگانا مشکل ہوگا۔
تاہم اگر جینیاتی طور پر یہ پانچ الگ انواع ہیں تو ہر species کی آبادی، رہائش گاہ اور اسے لاحق خطرات کا الگ جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
اس دریافت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر مطالعہ کیے جانے والے ممالیہ جانوروں میں بھی ایسی انواع موجود ہوسکتی ہیں جنہیں سائنس ابھی تک درست طور پر الگ شناخت نہیں کر سکی۔
Leopardus tilcayo کی شناخت اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ کوئی ایسا جانور نہیں جسے پہلی مرتبہ انسانوں نے دیکھا ہو، بلکہ مقامی لوگ اسے پہلے سے جانتے تھے۔ نئی تحقیق نے جینیاتی شواہد کی بنیاد پر اسے ایک الگ species کے طور پر شناخت کیا ہے۔