وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جاری جنگ اور پیٹرولیم بحران کے پیش نظر صوبے میں فوری اور غیر معمولی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان کے فیصلے کے تحت صوبائی وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے سرکاری فیول بند کر دیا گیا ہے اور گاڑیوں کے پٹرول و ڈیزل الاونس میں 50 فیصد کمی کی گئی ہے۔
صوبائی وزراء اور اعلیٰ افسران کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور صرف ناگزیر سیکورٹی کے لیے ایک گاڑی کے استعمال کی اجازت ہوگی۔ سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کا نفاذ کیا جائے گا، اور صرف ضروری عملہ ہی دفتر آئے گا۔
تعلیمی ادارے 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گے، لیکن امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے اور آن لائن کلاسز کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سرکاری آؤٹ ڈور تقریبات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور ہارس اینڈ کیٹل شو سمیت ثقافتی تہوار ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جبکہ پی آئی ٹی بی کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر ادارے اس نظام میں شامل ہوں گے۔
نجی سیکٹر کو بھی ورک فرام ہوم اور غیر ضروری تقریبات نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مزید برآں، ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی طلب و رسد پر سخت نگرانی ہوگی، اور زائد یا ناجائز کرایوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آؤٹ ڈور فنکشنز سے گریز کریں، لیٹ نائٹ شاپنگ نہ کریں اور ضروری اشیا کی غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ اندوزی سے پرہیز کریں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مشکل حالات میں قوم کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، اور بہادر قومیں مشکل حالات کا صبر، اتحاد اور دانش مندی کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔