پاکستان نے طویل المدتی معاشی تعاون کے تحت سعودی عرب سے آٹھ ایسے اہم درخواست کیے ہیں جن کا مقصد ملک کی معیشت کو درپیش مشکلات کم کرنا اور مالی استحکام حاصل کرنا ہے۔ دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، باخبر سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان نے سعودی حکومت سے درخواست کی ہے کہ اسٹیٹ بینک میں موجود پانچ ارب ڈالر کے مختصر مدت کے سعودی ذخائر کو دس سالہ طویل المدتی سہولت میں تبدیل کیا جائے اور اس پر نرم مالی شرائط رکھی جائیں۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی معاشی مشکلات حالیہ عالمی کشیدگی کے باعث مزید بڑھ گئی ہیں، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے بعد خطے کی صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔ اسی دوران پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تیسرے جائزے کو مکمل کرنے کے لیے بھی مذاکرات کر رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی جامع معاشی تعاون کے ایک بڑے پیکیج پر بات چیت جاری تھی، تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد ان مذاکرات کو مزید تیز کر دیا گیا ہے اور اعلیٰ سطح پر پاکستان نے سعودی عرب سے اضافی مالی تعاون کی درخواست کی ہے تاکہ موجودہ چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی دوسری بڑی درخواست یہ ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے تیل کی موخر ادائیگی کی سہولت کو ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر سے بڑھا کر پانچ ارب ڈالر کر دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سہولت کی واپسی کی مدت بھی ایک سال سے بڑھا کر تین سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ہر قسط کی ادائیگی تین سال بعد کی جا سکے۔
تیسری درخواست کے طور پر پاکستان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کو مالی ضمانت کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس اقدام سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مہنگے غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔
چوتھی درخواست میں پاکستان نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی اسلامی مالیاتی بانڈ جاری کرنے کے منصوبوں کے لیے ضمانت فراہم کرے تاکہ پاکستان کم شرح پر عالمی مالیاتی منڈیوں سے سرمایہ حاصل کر سکے۔
پانچویں درخواست کے تحت پاکستان نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے برآمداتی بینک کے لیے کم شرح پر قرض کی سہولت فراہم کرے۔ حکومت نے برآمدات میں اضافہ کرنے اور معیشت کو برآمدات پر مبنی بنانے کے مقصد سے یہ بینک قائم کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد نے سعودی عرب سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ پاکستان کے ساتھ درآمدی لین دین میں بینک گارنٹی کی شرط ختم کرنے پر غور کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو آسان بنایا جا سکے۔
ساتویں درخواست میں سعودی سرمایہ کاری فنڈ کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی بات کی گئی ہے تاکہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔
آٹھویں اور آخری درخواست میں پاکستان نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت بنیادی مالی سرپلس کے ہدف میں نرمی لانے میں مدد کرے تاکہ مجوزہ ٹیکس اصلاحات کو شامل کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق، سرکاری اخراجات پہلے ہی کافی سخت ہیں اس لیے مزید کمی مشکل ہے، تاہم طویل مدت میں یہ اقدامات معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتے ہیں۔
ابھی تک ان آٹھ مطالبات کے بارے میں سعودی عرب کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔