نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی شہریت کے پیدائشی حق کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوری میں صدارت سنبھالنے کے بعد اس قانون کو ختم کریں گے، جیسا کہ وہ اس سے پہلے اپنی تقاریر میں بارہا ذکر کرچکے ہیں۔
امریکی شہریت کے پیدائشی حق کا مطلب یہ ہے کہ تارکین وطن یا وہ غیر ملکی افراد جو تعلیم یا دیگر وجوہات کی بنا پر امریکا آتے ہیں، اگر ان کے بچے امریکا میں پیدا ہوتے ہیں تو انہیں خود بخود امریکی شہریت حاصل ہو جاتی ہے۔
ٹرمپ اور ان کے حامیوں کے مطابق، اس قانون میں تبدیلی ضروری ہے اور امریکی شہریت کے لیے ایک سخت اور منظم طریقہ کار واضع ہونا چاہیے۔
دوسری جانب، ٹرمپ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ پیدائشی شہریت کا حق امریکا کے آئین کی 14 ویں ترمیم کا حصہ ہے اور اسے ختم کرنا نہ صرف مشکل ہوگا بلکہ یہ اقدام غیر آئینی بھی تصور کیا جا سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، اس فیصلے سے امریکا کی شہری حقوق کی تاریخ اور آئینی روایات کو نقصان پہنچے گا۔
یہ اعلان امریکا میں تارکین وطن کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے، جس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔