یہ معلومات آپ کیلئے مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔
ازبکستان وسطی ایشیا کا ایک تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک ہے ، جو اپنے ثقافتی ورثے، قدیم شہروں اور خوبصورت مقامات کی بدولت سیاحوں کیلئے انتہائی پرکشش ہے ۔اگر آپ بھی ازبکستان جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ تفصیلی معلومات آپ کے سفر کو آسان اور یادگار بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی ۔
ازبکستان کہاں واقع ہے ؟

ازبکستان پاکستان اور بھارت سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے ۔ سنٹرل ایشیا کا یہ اہم ملک چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا ہے ۔ اس کے شمال اور مغرب میں قازقستان ، مشرق میں کرغزستان اور تاجکستان ، جنوب میں افغانستان جبکہ جنوب مغرب میں ترکمانستان واقع ہے ۔
ازبکستان کی کوئی سمندری سرحد نہیں، اور یہ دنیا کے ان دو ممالک میں شامل ہے جو ڈبل لینڈ لاکڈ (Double Landlocked) ہیں، یعنی اس کے آس پاس کے تمام ممالک بھی خشکی سے گھرے ہوئے ہیں۔
پاکستان سے ازبکستان کا فاصلہ اورسفری راستے

ازبکستان بھارت یا پاکستان سے کتنے فاصلے پر ہے ؟آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں ۔ہم یہاں پاکستان سے ازبکستان کا فاصلہ لکھ رہے ہیں دیگر ممالک سے ازبکستان کا سفر کرنے والے لوگ اس حساب سے اپنے ملک سے ازبکستان کے فاصلے کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
• اگر ہوائی سفر سے دیکھا جائے تو لاہور سے تاشقند کا فاصلہ تقریباً 1100 کلومیٹر ہے، اور فلائٹ کا دورانیہ تقریباً 2:20 گھنٹے ہوتا ہے۔
• اسلام آباد سے تاشقند کی فلائٹ کا دورانیہ کم ہو کر ایک گھنٹہ بیس منٹ ہوجاتا ہے ۔
• اگر آپ سڑک کے ذریعے ازبکستان جانا چاہتے ہیں تو آپ افغانستان کے زریعے ازبکستان جا سکتے ہیں ۔ یہ فاصلہ پشاور سے تاشقند تقریباً 1390 کلومیٹر ہے ۔ جبکہ اگر آپ ازبکستان کے شہر ترمذ تک جانا چاہیں جو افغانستان کے شہر مزار شریف کا پڑوسی شہرہے تو یہ فاصلہ پشاور سے صرف سات سو کلومیٹر ہے ۔ افغانستان کے زریعے ازبکستان جاتے ہوئے اور آپ کو ملحوظ رکھنا چاہئے کہ افغانستان بدامنی کا شکار ایک ملک ہے ۔افغانستان کے زریعے ازبکستان کا سفر کرنا آپ کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔اسی طرح آپ ایران-ترکمانستان کے ذریعے بھی ازبکستان جا سکتے ہیں ۔اگرچہ آپ ایران سے ترکمانستان اور پھر ازبکستان جاسکتے ہیں تاہم عملی طور یہ انتہائی کٹھن اور دشوار روٹ بنتا ہے ۔
پروازیں:

ازبکستان ایئرویز نے حال ہی میں لاہور سے تاشقند کے لیے براہ راست ہفتہ وار پروازیں شروع کی ہیں، جو ہر جمعہ کو چلتی ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی، دبئی اور قازقستان کے راستے بھی ازبکستان پہنچا جا سکتا ہے۔جب ازبک ائیرویز نے تاشقند سے لاہور کی پروازیں شروع نہیں کی تھیں تو پاکستان کے لوگ فلائی دوبئی ائیرلائن سے ازبکستان آیا کرتے تھے ۔فلائی دوبئی پاکستان کے مختلف شہروں سے دوبئی کیلئے پرواز کرتی ہے ۔پاکستانی شہری پہلے دوبئی اور پھر وہاں سے ازبکستان کے شہر سمرقند یا تاشقند کیلئے سفر کرتے تھے ۔
موسم کے بارے میں معلومات

ازبکستان آنے سے پہلے موسم کے بارے میں معلومات ضرور حاصل کریں ۔کیونکہ ازبکستان کا موسم گزشتہ چند سالوں میں بہت تبدیل ہوگیاہے ۔معمول کے مطابق ازبکستان میں مارچ کے مہینے تک سردی رہتی تھی جبکہ اب مارچ کے مہینے میں موسم تبدیل ہوجاتا ہے اور موسم بہار کا آغاز ہوجاتا ہے ۔اسی طرح چند سال پہلے تک اگست کے وسط میں موسم خاصا سرد ہوجاتا تھا جبکہ اب ستمبر کے مہینے میں سردیوں کا آغاز ہوتا ہے ۔مجموعی طور پر ازبکستان ایک سرد ملک ہے جہاں سردی کادورانیہ زیادہ ہوتا ہے ۔گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اب ازبکستان کے موسم میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ایک وقت تھا کہ ازبکستان کی مصنوعات میں پنکھے نہیں تھے جبکہ اب اپریل سے اگست تک ائیرکنڈیشن استعمال ہوتے ہیں ۔اگر ازبکستان میں سیر کیلئے آنا ہو تو فروری سے اپریل اور ستمبر سے نومبر بہترین وقت ہے کیونکہ ان مہینوں میں ازبکستان میں بہت زیادہ سردی ہوتی ہے اور نہ گرمی ۔جولوگ برف باری دیکھنے کے شوقین ہیں اور سرد موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ دسمبر،جنوری اور فروری میں ازبکستان کا وزٹ کریں ۔کیونکہ ان مہینوں میں ازبکستان میں برف باری ہوتی ہے ۔