سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف سائفر کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری، استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم، عمران خان اور سابق وزیر خارجہ، شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے اپنے 24 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا ہے کہ، استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا اور ٹرائل غیر ضروری جلد بازی میں مکمل کیا گیا۔
عدالت نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ،ریکارڈ سے واضح ہے کہ، مقدمے کی کارروائی غیر ضروری عجلت میں چلائی گئی۔ملزمان کے وکلاء کی جانب سے التوا مانگنے پر فورا سرکاری وکیل تعینات کر دیا گیا، جسے تیاری کے لیے صرف ایک دن دیا گیا۔سرکاری وکیل کی جرح میں ناتجربہ کاری اور وقت کی کمی واضح تھی، جس سے مقدمے کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ، اگر جرح کو ایک طرف بھی رکھ دیا جائے تو استغاثہ کے شواہد ناکافی ہیں اور وہ ملزمان پر الزام ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔
سایفر کیس کیا ہے؟
یہ مقدمہ سفارتی دستاویز (سائفر) سے متعلق تھا، جو مبینہ طور پر عمران خان کے قبضے سے غائب ہوگئی تھی۔ پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ، یہ سائفر امریکہ کی جانب سے عمران خان کی حکومت گرانے کی مبینہ دھمکی پر مبنی تھا، جبکہ حکومت وقت کا دعویٰ تھا کہ، عمران خان نے سائفر کا غلط استعمال کیا، اسے اپنے پاس رکھا اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اس کیس میں عمران خان، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور دیگر افراد کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق، سابق سیکریٹری خارجہ کو 7 مارچ 2022 کو واشنگٹن سے سائفر موصول ہوا، اور عمران خان نے 28 مارچ 2022 کو بنی گالا میں ایک خفیہ اجلاس میں اس کا غلط استعمال کیا۔عمران خان پر الزام تھا کہ، انہوں نے سائفر وزارت خارجہ کو واپس نہیں کیا اور اسے اپنی سیاست چمکانے کے لیے ریاستی راز کے طور پر استعمال کیا۔ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ، عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے اقدامات سے پاکستان کے سائفر سیکیورٹی سسٹم اور خفیہ پیغام رسانی کے نظام کو خطرہ لاحق ہوا اور اس سے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس کیس کو سیاسی انتقام قرار دیا تھا اور مؤقف اپنایا تھا کہ، عمران خان نے کسی قومی راز کا غلط استعمال نہیں کیا، بلکہ سائفر کے ذریعے امریکی سازش کو بے نقاب کیا تھا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں