چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینیزویلا سے تیل حاصل کرنے کے منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماو نِنگ نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا یہ مطالبہ کہ وینیزویلا تیل کے شعبے میں امریکہ کے ساتھ ‘خصوصی شراکت داری’ قائم کرے، وینیزویلا کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ماو نِنگ کا کہنا تھا کہ وینیزویلا ایک خودمختار ریاست ہے اور اسے اپنے تیل کے وسائل اور معاشی سرگرمیوں پر مکمل اور مستقل اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے وینیزویلا کے خلاف طاقت کے کھلے استعمال اور اسے اپنے تیل کے وسائل کے معاملے میں امریکہ کو ترجیح دینے پر مجبور کرنا ایک روایتی غنڈہ گردی ہے، جو وینیزویلا کی خودمختاری کو بری طرح پامال کرتی ہے۔
چینی ترجمان نے مزید کہا کہ چین اور دیگر ممالک کے وینیزویلا میں جائز مفادات ہیں جن کا تحفظ کیا جانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ اور کراکس کے درمیان طے پانے والے تعاون کے معاہدے دو خودمختار ریاستوں کے درمیان ہوئے ہیں اور انہیں ملکی اور بین الاقوامی قوانین کا تحفظ حاصل ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ چین، امریکہ کے بعد وینیزویلا کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارتی حجم تقریبا سات ارب ڈالر ہے