بھارت، ازبکستان، اور قازقستان کے درمیان ایک نئی کارگو ٹرین سروس کا آغاز ہو گیا ہے، جو تینوں ممالک کے درمیان تجارتی راہداری کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ “ازٹیمیریول کنٹینر”، جو کہ “ازبکستان ریلوے” کا ذیلی ادارہ ہے، اس ادارے نے “کیدنٹرانس سروس” اور ترکمانستان کے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سینٹر کے تعاون سے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا ہے۔
یہ نیا تجارتی راستہ 4,885 کلومیٹر طویل ہے، جس میں 12 معیاری 20 فٹ کنٹینرز چار ممالک سے گزرتے ہیں۔ بھارت کے مندرا پورٹ سے ایران کے بندر عباس تک 1,585 کلومیٹر کا فاصلہ سمندری راستے سے طے کیا جاتا ہے، جس کے بعد کنٹینرز کو پلیٹ فارمز پر منتقل کیا جاتا ہے اور وہ سرخس، فراب اور کیلز کی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے آخر کار آستانہ کے سورکووایا اسٹیشن پہنچتے ہیں۔
فروری میں “ازٹیمیریول کنٹینر” کے سربراہ مقرر ہونے والے مرزییود مرخامیدوف نے بھارت سے وسطی ایشیا تک مال بردار ٹرین سروس کو باقاعدہ بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف تجارتی روابط مستحکم ہوں گے بلکہ برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کے لیے بھی مزید مواقع فراہم ہوں گے۔
اس سے قبل، اگست 2024 میں “ازٹیمیریول کنٹینر” نے بھارت سے ازبکستان کے لیے ملٹی ماڈل شپمنٹ کا آغاز کیا تھا، جس میں ایک مال بردار ٹرین 20 کنٹینرز لے کر مندرا سے بندر عباس کے راستے 20 دن میں سرگیلی اسٹیشن پہنچی تھی، اور آئندہ اس ٹرانزٹ وقت کو 15 دن تک کم کرنے کا منصوبہ ہے۔
اس سے پہلے، 2022 کے موسم بہار میں بھارت نے پہلی بار پاکستان اور افغانستان کے راستے ازبکستان کے لیے کارگو بھیجا تھا، جسے سمندری راستے سے ممبئی سے کراچی اور پھر ٹرک کے ذریعے دو سرحدوں سے گزار کر منزل تک پہنچایا گیا تھا۔
یہ نئی کارگو سروس نہ صرف وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ دے گی بلکہ تجارتی راستوں کو مزید مؤثر اور تیز بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔