خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع، جنوبی وزیرستان کے علاقے ،اعظم ورسک میں مسجد کے اندر دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مقامی رہنما، مولانا عبداللہ ندیم سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے۔
ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ڈی آئی خان، اشفاق انور نے تصدیق کی کہ، دھماکے کے لیے مسجد کے محراب میں بم نصب کیا گیا تھا۔ حملے کا ہدف مولانا عبداللہ ندیم تھے، جو نہ صرف جے یو آئی وانا کے امیر، بلکہ مسجد کے امام بھی تھے۔
مولانا عبداللہ ندیم کو گزشتہ سال مرزا جان کے بم دھماکے میں جاں بحق ہونے کے بعد جے یو آئی وانا کا امیر منتخب کیا گیا تھا۔
یہ حملہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا تسلسل ہے، جہاں نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ عام شہری بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔
پچھلے چند ہفتوں میں دہشت گردی کے واقعات میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور امن و امان کی صورتحال تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔
حکام نے دھماکے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔