بہتر حکمرانی اور تباہ حال نظام کی ازسرِنو تعمیر، قومی مکالمہ

پاکستان میں سیاسی، معاشی اور آئینی بحران پر گفتگو نئی بات نہیں۔ ہر دور میں حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں تبدیل ہوتی رہیں، سیاسی بیانیے بنتے اور ٹوٹتے رہے، مگر ایک سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے: ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ کیسے ختم کیا جائے؟ یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، پورے نظامِ حکمرانی سے متعلق ہے۔ کیونکہ ریاست کی اصل طاقت اس کے اداروں، قوانین یا وسائل میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ جب شہری کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ریاست اس کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے سے قاصر ہے تو فاصلے صرف انتظامی نہیں رہتے، بلکہ اعتماد کا بحران جنم لیتا ہے ۔اسی بنیادی سوال پر لاہور لیڈز یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والی کانفرنس “بہتر حکمرانی اور تباہ حال نظام کی ازسرِنو تعمیر” نے ایک اہم قومی مکالمے کی بنیاد رکھی۔ کانفرنس میں سیاسی رہنماؤں، سابق گورنروں، سابق وفاقی وزراء، قانون دانوں، صحافیوں، دانشوروں، سابق فوجی افسران اور جمہوری و انتخابی نظام کے ماہرین نے شرکت کی۔ مختلف سیاسی اور فکری پس منظر رکھنے والی شخصیات کا ایک ہی فورم پر بیٹھنا اس لحاظ سے اہم تھا کہ پاکستان کے مسائل کا کوئی ایک فریق ذمہ دار نہیں اور نہ ہی ان کا حل کسی ایک جماعت یا ادارے کے پاس ہے۔

کانفرنس میں ایک اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ پاکستان کا پورا نظام شاید مکمل طور پر بکھرا ہوا نہیں، لیکن اس کا ڈیلیوری میکنزم ضرور انتہائی کمزور ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور شہری کا براہِ راست تعلق قائم ہوتا ہے۔ عام آدمی کے لیے ریاست کا مطلب دراصل یہی ہے کہ اسے گھر کے قریب بنیادی سہولت ملے، تھانے میں انصاف ملے، عدالت میں بروقت داد رسی ہو، ہسپتال میں علاج ملے، بچوں کو معیاری تعلیم ملے اور سرکاری دفتر میں اس کا کام عزت اور شفاف طریقے سے ہو۔ اگر یہ سب کچھ میسر نہیں تو شہری کے لیے بڑے بڑے ریاستی دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی حکومتوں کا سوال اس قومی مکالمے میں بار بار سامنے آیا۔ پاکستان میں اختیارات کا بڑا حصہ وفاق اور صوبوں کے درمیان گردش کرتا رہتا ہے، جبکہ عام شہری کا مسئلہ محلے، یونین کونسل، تحصیل یا ضلع کی سطح پر پیدا ہوتا ہے۔ سڑک ٹوٹی ہو، گلی میں نکاسیِ آب کا مسئلہ ہو، صفائی کا نظام خراب ہو، بنیادی صحت کی سہولت دستیاب نہ ہو یا کسی مقامی مسئلے کا فوری حل درکار ہو، شہری کو اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومت کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔ اسے اپنے دروازے کے قریب ایک بااختیار اور جواب دہ مقامی حکومت میسر ہونی چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مقامی حکومتوں کا قیام کافی ہے؟ جواب ہے: نہیں۔ اگر مقامی حکومت کے پاس اختیار نہ ہو، مالی وسائل نہ ہوں اور فیصلوں کی آزادی نہ ہو تو وہ بھی ایک نمائشی ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے۔ حقیقی اختیارات کی منتقلی کا مطلب صرف عہدے یا دفاتر منتقل کرنا نہیں بلکہ اختیار، وسائل اور جواب دہی تینوں کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے۔ پاکستان کے بحران کا ایک اہم پہلو سیاسی عدم اعتماد بھی ہے۔ جب سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو حریف کے بجائے دشمن سمجھنے لگیں، اختلافِ رائے کو غداری سے جوڑا جانے لگے اور اقتدار کی تبدیلی کو نظام کی تبدیلی سمجھ لیا جائے تو جمہوری عمل کمزور ہوتا ہے۔ سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اختلاف کوجمہوریت کا حصہ سمجھا جائے۔ سیاسی جماعتیں بھی اپنے اندر جمہوری کلچر پیدا کریں، کیونکہ جو جماعتیں اندر سے جمہوری نہیں ہوتیں، وہ اقتدار میں آکر جمہوری حکمرانی کے مطلوبہ معیار کو کیسے قائم رکھ سکتی ہیں؟

آئینی تسلسل کا مسئلہ بھی اسی بحران سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بار بار پیدا ہونے والے تعطل نے اداروں کے ارتقا کو متاثر کیا۔ آئین صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان ایک بنیادی معاہدہ ہے۔ اگر آئینی حدود واضح ہوں، ادارے اپنے دائرۂ اختیار میں رہیں اور قانون سب کے لیے یکساں ہو تو ریاستی نظام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ لیکن جب طاقت کے مراکز آئینی حدود سے باہر نکلنے لگیں تو ادارہ جاتی توازن متاثر ہوتا ہے اور بالآخر نقصان پورے نظام کو پہنچتا ہے۔اس بحران کا ایک اور پہلو معیشت ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام مشکل ہے اور معاشی بے یقینی سیاسی عدم اعتماد کو مزید بڑھاتی ہے۔ سرمایہ کار کو ایسی ریاست درکار ہوتی ہے جہاں پالیسیوں میں تسلسل ہو، فیصلے شفاف ہوں اور ادارے شخصیات کے بجائے قواعد کے مطابق کام کریں۔ اگر ہر حکومت آنے کے بعد معاشی سمت تبدیل ہو جائے تو طویل المدتی منصوبہ بندی مشکل ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً کاروبار، سرمایہ کاری اور روزگار سب متاثر ہوتے ہیں۔ یہاں ذرائع ابلاغ اور تعلیم کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کے ساتھ ذرائع ابلاغ بھی عوامی اعتماد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ذرائع ابلاغ صرف سیاسی محاذ آرائی کو بڑھائیں تو معاشرہ مزید تقسیم ہوتا ہے، لیکن اگر وہ مختلف نقطۂ نظر کو جگہ دیں، درست معلومات فراہم کریں اور قومی مسائل پر سنجیدہ مکالمہ پیدا کریں تو وہ اصلاحِ معاشرہ کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم یافتہ اور باشعور شہری ہی ایک ذمہ دار جمہوری معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔ نوجوانوں کو صرف روزگار کے لیے نہیں بلکہ قومی فیصلہ سازی اور مستقبل کی قیادت کے لیے بھی تیار کرنا ہوگا۔

اصل مسئلہ شاید یہ بھی ہے کہ ہم اصلاحات کو قانون سازی تک محدود کر دیتے ہیں۔ قانون بنانا آسان ہے، اس پر عمل درآمد مشکل۔ پارلیمانی اصلاحات، انتخابی اصلاحات، بلدیاتی نظام، احتساب، عدالتی اصلاحات اور انتظامی تبدیلیاں اپنی جگہ ضروری ہیں، مگر ان سب سے زیادہ ضروری عمل درآمد کا کلچر ہے۔ اگر قانون موجود ہو مگر اس پر عمل نہ ہو تو قانون کی کتابیں بڑھتی رہتی ہیں اور عوام کا اعتماد کم ہوتا جاتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کو اب شخصیات سے زیادہ اداروں، نعروں سے زیادہ نتائج اور وعدوں سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ریاستی کامیابی کا پیمانہ کیا ہے؟ کیا کامیاب ریاست وہ ہے جہاں دفاتر کی تعداد زیادہ ہو؟ جہاں قوانین کی کتابیں بھری ہوں؟ جہاں بجٹ بڑھتا رہے؟ یا کامیاب ریاست وہ ہے جہاں عام شہری کی زندگی آسان ہو، اسے انصاف کے لیے سالہا سال انتظار نہ کرنا پڑے، اس کے بچے معیاری تعلیم حاصل کر سکیں، اسے بنیادی صحت کی سہولت ملے اور اس کی آواز فیصلہ سازی کے ایوانوں تک پہنچ سکے؟ پاکستان کے موجودہ حالات میں قومی مکالمہ اسی وقت نتیجہ خیز ہو سکتا ہے جب مکالمے کے بعد ترجیحات طے ہوں۔ ہمیں یہ بحث ختم کرنا ہوگی کہ صرف کون غلط ہے، اور یہ بحث شروع کرنا ہوگی کہ درست کیا کرنا ہے؟سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت مضبوط کریں، انتخابات پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے، آئین کی بالادستی یقینی بنائی جائے، اداروں کے درمیان اختیارات کی حدود واضح ہوں، مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیار اور وسائل دیے جائیں، معاشی پالیسیوں میں تسلسل پیدا کیا جائے اور ریاستی اداروں کو جواب دہ بنایا جائے۔ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ صرف تقریروں سے ختم نہیں ہوگا۔ یہ فاصلہ اس وقت کم ہوگا جب شہری کو ریاست اپنے ساتھ کھڑی ہوئی محسوس ہوگی۔ جب تھانے میں عزت ملے گی، عدالت میں انصاف ملے گا، ہسپتال میں علاج ملے گا، سرکاری دفتر میں کام ہوگا اور مقامی نمائندہ شہری کے سامنے جواب دہ ہوگا۔

لاہور لیڈز یونیورسٹی کی اس کانفرنس کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ پاکستان کو صرف نئی حکومت نہیں، بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اصل کامیابی اداروں، قوانین اور اختیارات کی تعداد میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ یہ نظام عام شہری کی زندگی میں کتنا مثبت فرق پیدا کرتا ہے۔ اگر نظام عوام کی مشکلات کم نہیں کر رہا تو فوری اور سنجیدہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔ یہ اصلاح صرف قوانین یا اداروں کی تبدیلی نہیں، بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بحال کرنے کا عمل ہے، اور اسی اعتماد سے بہتر حکمرانی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں